صحیح بخاری حدیث ۷۵۴۱ - ہرقل کو خط اور کلمہ مشترک کی دعوت

ہرقل کو نبی صلى الله عليه وسلم کا خط: اہل کتاب کو کلمہ مشترک کی دعوت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۵۴۱

وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ ، أَنَّ هِرَقْلَ دَعَا تَرْجُمَانَهُ ، ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَرَأَهُ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى هِرَقْلَ وَيَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْآيَةَ .

ابوسفیان بن حرب روایت:

ہرقل نے اپنے ترجمان کو بلایا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا اور اسے پڑھا۔ شروع اللہ کے نام سے جو بہت نہایت رحم کرنے والا بڑا مہربان ہے۔ اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہرقل کی جانب۔ پھر یہ آیت لکھی تھی «يا أهل الكتاب تعالوا إلى كلمة سواء بيننا وبينكم» کہ ”اے کتاب والو! اس بات پر آ جاؤ جو ہم میں تم میں یکساں مانی جاتی ہے“ آخر آیت تک۔

صحیح بخاری حدیث ۷۵۴۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابو سفیان بن حرب کے ذریعے ہرقل کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ ہرقل نے ترجمان کو بلایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا اور پڑھا۔ خط کی ابتدا اللہ کے نام سے ہوئی، پھر لکھا تھا کہ محمد، اللہ کے بندے اور رسول کی طرف سے ہرقل کے نام۔ اس کے بعد آیت لکھی گئی: اے کتاب والو! اس بات پر آ جاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے۔ اس حدیث کا موضوع دعوت اسلام ہے۔ متن میں دعوت کا انداز صاف، مختصر اور باوقار ہے۔ اس میں سب سے پہلے اللہ کا نام، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعارف، پھر اہل کتاب کو مشترک بات کی طرف بلایا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دعوت کا آغاز اللہ کے نام سے کیا گیا۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو اللہ کا بندہ اور رسول لکھا۔
  • اہل کتاب کو مشترک بات کی طرف بلایا گیا۔
  • خط کا انداز واضح، باوقار اور مختصر تھا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں