صحیح بخاری حدیث ۷۵۴۶ - عشاء میں سورۃ والتین کی تلاوت
تلاوت قرآن کی حدیث: عشاء میں سورۃ والتین
صحیح بخاری : ۷۵۴۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۵۴۶
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، أُرَاهُ قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ : " وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ صَوْتًا ، أَوْ قِرَاءَةً مِنْهُ " .
براء بن عازب روایت:
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ عشاء کی نماز میں «والتين والزيتون» پڑھ رہے تھے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بہترین آواز سے قرآن پڑھتے ہوئے کسی کو نہیں سنا۔
صحیح بخاری حدیث ۷۵۴۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع تلاوت قرآن ہے۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عشاء کی نماز میں سورۃ والتین والزیتون پڑھتے سنا۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر آواز یا بہتر قراءت کسی سے نہیں سنی۔ اس سے ایک سیدھی بات معلوم ہوتی ہے کہ نماز میں قرآن کی تلاوت صاف، اچھی اور دل کو لگنے والی ہونی چاہیے۔ یہاں خاص طور پر عشاء کی نماز، سورۃ والتین، خوبصورت آواز، اور قراءت قرآن کا ذکر آیا ہے۔ حدیث ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ ہر عشاء میں یہی سورت پڑھنی ہے، بلکہ صرف یہ واقعہ بیان کرتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز میں یہ سورت پڑھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں قرآن صاف اور اچھے انداز سے پڑھنا پسندیدہ عمل ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت صحابہ کے دلوں پر گہرا اثر ڈالتی تھی۔
- عشاء کی نماز میں مختصر سورت پڑھنا اس واقعہ سے ثابت ہے۔
- قرآن سننے والے کے لیے اچھی تلاوت یاد رہنے والی چیز بن سکتی ہے۔
