صحیح بخاری حدیث ۷۵۴۷ - نماز میں آواز کا اعتدال

نماز میں آواز کی حدیث: نہ بہت بلند، نہ بہت پست

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۵۴۷

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مُتَوَارِيًا بِمَكَّةَ وَكَانَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ ، فَإِذَا سَمِعَ الْمُشْرِكُونَ سَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ جَاءَ بِهِ ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110 .

عبداللہ بن عباس روایت:

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں چھپ کر تبلیغ کرتے تھے تو قرآن بلند آواز سے پڑھتے، مشرکین جب سنتے تو قرآن کو برا بھلا کہتے اور اس کے لانے والے کو برا بھلا کہتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ ”اپنی نماز میں نہ آواز بلند کرو اور نہ بہت پست۔“

صحیح بخاری حدیث ۷۵۴۷ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع نماز میں آواز کا اعتدال ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مکہ میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چھپ کر تبلیغ کرتے تھے تو آپ قرآن بلند آواز سے پڑھتے۔ مشرکین جب قرآن سنتے تو قرآن کو اور اسے لانے والے کو برا بھلا کہتے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اپنی نماز میں نہ آواز بہت بلند کرو اور نہ بہت پست۔ اس حدیث میں اصل بات یہ ہے کہ قراءت قرآن میں موقع کے مطابق درمیانی طریقہ اختیار کیا جائے۔ یہاں نماز کی آواز، قراءت قرآن، بلند آواز، پست آواز، اور اعتدال جیسے الفاظ اس تعلیم کو واضح کرتے ہیں۔ حدیث خاص اسی حالت کو بیان کرتی ہے جس میں بلند آواز سے دشمنوں کی بدزبانی کا اندیشہ تھا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز میں آواز کے معاملے میں اعتدال رکھا جائے۔
  • حالات کو دیکھ کر عبادت کے انداز میں حکمت اختیار کی جا سکتی ہے۔
  • قرآن کی بے ادبی سے بچانے کا خیال بھی دینی سمجھ کا حصہ ہے۔
  • نہ حد سے زیادہ بلند آواز بہتر ہے، نہ اتنی پست کہ مقصد فوت ہو جائے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں