صحیح بخاری حدیث ۸۵۲ - نماز کے بعد صرف دائیں طرف مڑنے کو لازم نہ سمجھنا
نماز کے بعد دائیں یا بائیں مڑنے کی حدیث کا آسان مطلب
صحیح بخاری : ۸۵۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۸۵۲
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " لَا يَجْعَلْ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِهِ يَرَى أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ ، لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرًا يَنْصَرِفُ عَنْ يَسَارِهِ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
کوئی شخص اپنی نماز میں سے کچھ بھی شیطان کا حصہ نہ لگائے اس طرح کہ داہنی طرف ہی لوٹنا اپنے لیے ضروری قرار دے لے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر بائیں طرف سے لوٹتے دیکھا۔
صحیح بخاری حدیث ۸۵۲ کا خلاصہ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنی نماز میں شیطان کا حصہ نہ بنائے، یعنی یہ نہ سمجھے کہ نماز کے بعد صرف دائیں طرف ہی مڑنا ضروری ہے۔ پھر انہوں نے اپنا مشاہدہ بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو اکثر بائیں طرف سے لوٹتے دیکھا۔ اس حدیث کا اصل موضوع نماز کے بعد مڑنا ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی سمت کو اپنے لیے لازم سمجھ لینا درست انداز نہیں، جب روایت میں نبی صلى الله عليه وسلم کا بائیں طرف مڑنا بھی آیا ہے۔ یہاں حدیث دائیں طرف مڑنے کی ممانعت نہیں بتا رہی، بلکہ اسے لازم سمجھنے سے روک رہی ہے۔ عام زبان میں بات یہ ہے کہ نماز کے بعد رخ پھیرنے میں بے جا پابندی نہ بنائی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کے بعد صرف دائیں طرف مڑنے کو لازم نہ سمجھا جائے۔
- ابن مسعودؓ نے نبی صلى الله عليه وسلم کو اکثر بائیں طرف مڑتے دیکھا۔
- دین میں اپنی طرف سے سخت پابندی بنانا درست نہیں۔
- حدیث رخ پھیرنے کے معاملے میں وسعت دکھاتی ہے۔
