صحیح بخاری حدیث ۸۵۶ - لہسن کھانے والا ہمارے ساتھ نماز نہ پڑھے
لہسن کھانے والے کے لیے جماعت میں آنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۸۵۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۸۵۶
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ أَنَسَ ، مَا سَمِعْتَ نَبِيَّ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الثُّومِ ؟ فَقَالَ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يَقْرَبْنَا أَوْ لَا يُصَلِّيَنَّ مَعَنَا " .
انس بن مالک روایت:
´ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، ان سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبد العزیز بن صہیب نے بیان کیا، کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ` آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لہسن کے بارے میں کیا سنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اس درخت کو کھائے وہ ہمارے قریب نہ آئے ہمارے ساتھ نماز نہ پڑھے۔
صحیح بخاری حدیث ۸۵۶ کا خلاصہ
اس روایت میں ایک شخص نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے لہسن کے بارے میں کیا سنا؟ انس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جو شخص اس درخت کو کھائے، وہ ہمارے قریب نہ آئے یا ہمارے ساتھ نماز نہ پڑھے۔ اس حدیث کا اصل موضوع مسجد کا ادب اور جماعت میں دوسروں کا خیال ہے۔ لہسن سے مراد وہ حالت ہے جب اس کی بو باقی ہو اور نمازیوں کو تکلیف ہو سکتی ہو۔ حدیث کا لفظ ہمارے قریب نہ آئے بہت واضح ہے، اس لیے مسجد یا جماعت میں جانے سے پہلے انسان کو اپنی صفائی، سانس اور منہ کی بو کا خیال رکھنا چاہیے۔ یہ صرف ذاتی پسند کا معاملہ نہیں، بلکہ عبادت کی جگہ پر دوسروں کی راحت سے متعلق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لہسن کھانے والے کو جماعت میں آنے سے روکا گیا جب بو باقی ہو۔
- نماز میں دوسروں کو تکلیف سے بچانا ضروری ادب ہے۔
- مسجد جانے سے پہلے منہ کی صفائی کا خیال رکھنا چاہیے۔
- حدیث لہسن کے ذکر سے مسجد کے آداب سمجھاتی ہے۔
