صحیح بخاری حدیث ۸۸ - رضاعت کا نکاح پر اثر
رضاعت کی گواہی اور نکاح کا مسئلہ
صحیح بخاری : ۸۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۸۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، " أَنَّهُ تَزَوَّجَ ابْنَةً لِأَبِي إِهَابِ بْنِ عَزِيزٍ ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ ، فَقَالَتْ : إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُ عُقْبَةَ وَالَّتِي تَزَوَّجَ ، فَقَالَ لَهَا عُقْبَةُ : مَا أَعْلَمُ أَنَّكِ أَرْضَعْتِنِي وَلَا أَخْبَرْتِنِي ، فَرَكِبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ ، فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ ، فَفَارَقَهَا عُقْبَةُ ، وَنَكَحَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ " .
عقبہ ابن الحارث روایت:
عقبہ نے ابواہاب بن عزیز کی لڑکی سے نکاح کیا تو ان کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے عقبہ کو اور جس سے اس کا نکاح ہوا ہے، اس کو دودھ پلایا ہے۔ (یہ سن کر) عقبہ نے کہا، مجھے نہیں معلوم کہ تو نے مجھے دودھ پلایا ہے اور نہ تو نے کبھی مجھے بتایا ہے۔ تب عقبہ سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور آپ سے اس کے متعلق دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کس طرح (تم اس لڑکی سے رشتہ رکھو گے) حالانکہ (اس کے متعلق یہ) کہا گیا تب عقبہ بن حارث نے اس لڑکی کو چھوڑ دیا اور اس نے دوسرا خاوند کر لیا۔
صحیح بخاری حدیث ۸۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔ انہوں نے ایک عورت سے نکاح کیا، پھر ایک عورت نے آ کر کہا کہ میں نے عقبہ کو بھی دودھ پلایا ہے اور جس عورت سے ان کا نکاح ہوا ہے اسے بھی دودھ پلایا ہے۔ عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے اس بات کا علم نہیں تھا اور تم نے پہلے نہیں بتایا۔ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ گئے اور مسئلہ پوچھا۔ آپ نے فرمایا کہ اب کیسے، جبکہ یہ بات کہی جا چکی ہے۔ اس کے بعد عقبہ رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو چھوڑ دیا۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رضاعت کا معاملہ نکاح میں بہت سنجیدہ ہے، اور شک یا دعویٰ پیش آنے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رہنمائی لی گئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رضاعت کا معاملہ نکاح پر اثر ڈال سکتا ہے۔
- مشکل دینی مسئلہ ہو تو خود فیصلہ کرنے کے بجائے پوچھنا چاہیے۔
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مسئلہ معلوم کرنے کے لیے سفر بھی کرتے تھے۔
- نکاح جیسے معاملے میں احتیاط اختیار کی گئی۔
