صحیح بخاری حدیث ۹۰۰ - اللہ کی بندیوں کو مسجد سے نہ روکو
لا تمنعوا إماء الله مساجد الله: عورتوں کو مسجد سے نہ روکنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۹۰۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۹۰۰
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَتِ امْرَأَةٌ لِعُمَرَ تَشْهَدُ صَلَاةَ الصُّبْحِ وَالْعِشَاءِ فِي الْجَمَاعَةِ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقِيلَ لَهَا : لِمَ تَخْرُجِينَ وَقَدْ تَعْلَمِينَ أَنَّ عُمَرَ يَكْرَهُ ذَلِكَ وَيَغَارُ ، قَالَتْ : وَمَا يَمْنَعُهُ أَنْ يَنْهَانِي ، قَالَ : يَمْنَعُهُ قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
عمر رضی اللہ عنہ کی ایک بیوی تھیں جو صبح اور عشاء کی نماز جماعت سے پڑھنے کے لیے مسجد میں آیا کرتی تھیں۔ ان سے کہا گیا کہ باوجود اس علم کے کہ عمر رضی اللہ عنہ اس بات کو مکروہ جانتے ہیں اور وہ غیرت محسوس کرتے ہیں پھر آپ مسجد میں کیوں جاتی ہیں۔ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ پھر وہ مجھے منع کیوں نہیں کر دیتے۔ لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کی وجہ سے کہ اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں میں آنے سے مت روکو۔
صحیح بخاری حدیث ۹۰۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک واقعہ بیان ہوا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ایک اہلیہ صبح اور عشاء کی نماز جماعت سے پڑھنے کے لیے مسجد آیا کرتی تھیں۔ ان سے کہا گیا کہ عمر رضی اللہ عنہ اسے پسند نہیں کرتے اور غیرت محسوس کرتے ہیں، پھر آپ کیوں جاتی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ پھر وہ مجھے منع کیوں نہیں کرتے؟ لوگوں نے بتایا کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے کہ اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں میں آنے سے مت روکو۔ اس روایت کا اصل موضوع عورتوں کا مسجد جانا اور نبوی حکم کے آگے رک جانا ہے۔ حدیث میں صبح و عشاء کی جماعت کا ذکر بھی ہے، اس لیے اسے اسی تناظر میں سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں میں آنے سے منع نہ کرنے کا حکم آیا ہے۔
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنی ذاتی پسند کے باوجود نبوی فرمان کا احترام کرتے تھے۔
- عورتوں کے مسجد آنے کا ذکر صبح اور عشاء کی جماعت کے تناظر میں آیا ہے۔
