صحیح مسلم حدیث ۸۷۵ - ام القرآن کے بغیر نماز نہیں
ام القرآن یعنی سورۂ فاتحہ پڑھنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۸۷۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۷۵
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْتَرِئْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ " .
عبادہ بن صامت روایت:
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم بیان کیا: ” جس نے ام القرآن یعنی سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز ہی نہیں ہوتی۔“
صحیح مسلم حدیث ۸۷۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم بیان کیا کہ جس نے ام القرآن، یعنی سورۂ فاتحہ، نہیں پڑھی اس کی نماز نہیں ہوتی۔ یہاں سورۂ فاتحہ کو ام القرآن کے نام سے بیان کیا گیا ہے۔ روایت کا اصل موضوع نماز میں سورۂ فاتحہ کی قراءت ہے۔ اس حدیث کو پڑھ کر نمازی کو یہ بات صاف سمجھ آتی ہے کہ نماز میں فاتحہ کی تلاوت معمولی بات نہیں، بلکہ حدیث کے الفاظ میں نماز کے ساتھ اس کا گہرا تعلق بیان ہوا ہے۔ اس میں کوئی اضافی واقعہ یا تفصیل نہیں، اس لیے بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام القرآن نہ پڑھنے والے کی نماز کے بارے میں واضح حکم دیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سورۂ فاتحہ کو اس روایت میں ام القرآن کہا گیا ہے۔
- ام القرآن نہ پڑھنے والے کی نماز کے بارے میں واضح حکم آیا ہے۔
- نماز میں قراءت کو حدیث نے خاص اہمیت دی ہے۔
- روایت مختصر ہے، اس لیے اس کے اصل الفاظ پر توجہ رکھنی چاہیے۔
