صحیح مسلم حدیث ۸۷۴ - سورۂ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں
سورۂ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں: عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی حدیث
صحیح مسلم : ۸۷۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۷۴
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، يَبْلُغُ بِهِا لنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " .
عبادہ بن صامت روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو کوئی سورۂ فاتحہ نہ پڑھے تو اس کی نماز ہی نہیں ہوتی۔“
صحیح مسلم حدیث ۸۷۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ جو کوئی سورۂ فاتحہ نہ پڑھے تو اس کی نماز نہیں ہوتی۔ روایت کے الفاظ مختصر ہیں، مگر بات بہت واضح ہے۔ اس میں سورۂ فاتحہ کو نماز کے ساتھ خاص طور پر جوڑا گیا ہے۔ عام فہم انداز میں کہا جائے تو نماز پڑھنے والے کو اپنی نماز میں فاتحہ کی تلاوت کا خیال رکھنا چاہیے، کیونکہ حدیث میں اسی کو نماز کے درست ہونے سے متعلق بیان کیا گیا ہے۔ یہاں کسی لمبی بحث کی ضرورت نہیں، بلکہ متن کا اصل پیغام یہی ہے کہ فاتحہ الکتاب نماز کا اہم حصہ ہے۔ اس حدیث کے اہم الفاظ سورۂ فاتحہ، فاتحہ الکتاب، نماز، اور قراءت ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سورۂ فاتحہ نہ پڑھنے والے کی نماز کے بارے میں سخت الفاظ آئے ہیں۔
- فاتحہ الکتاب کو نماز کے ساتھ خاص طور پر بیان کیا گیا ہے۔
- نمازی کو نماز میں قراءت کا خیال رکھنا چاہیے۔
- حدیث کا اصل پیغام مختصر مگر بہت واضح ہے۔
