صحیح مسلم حدیث ۸۷۶ - ام القرآن کی قراءت کا حکم
نماز میں ام القرآن پڑھنے کا واضح نبوی حکم
صحیح مسلم : ۸۷۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۷۶
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ ، الَّذِي مَجّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهِ مِنْ بِئْرِهِمْ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ أَخْبَرَهُ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ " .
عبادہ بن صامت روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے ام القرآن سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز ہی نہیں ہوئی۔“
صحیح مسلم حدیث ۸۷۶ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ام القرآن، یعنی سورۂ فاتحہ، نہیں پڑھی اس کی نماز نہیں ہوئی۔ اس حدیث میں بھی اصل بات وہی ہے کہ نماز میں سورۂ فاتحہ کی قراءت کا حکم بہت واضح الفاظ میں آیا ہے۔ یہاں ایک اضافی سندی تفصیل موجود ہے، مگر عملی پیغام مختصر ہے: نمازی اپنی نماز میں فاتحہ کی تلاوت کو نظر انداز نہ کرے۔ حدیث کے الفاظ میں نماز نہ ہونے کا بیان آیا ہے، اس لیے اس کو نرم یا معمولی بات بنا کر نہیں پڑھنا چاہیے، مگر ساتھ ہی متن سے باہر جا کر تفصیلی فقہی بحث بھی نہیں چھیڑنی چاہیے۔ اس روایت کے اہم الفاظ ام القرآن، سورۂ فاتحہ، نماز، اور قراءت ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ام القرآن نہ پڑھنے پر نماز نہ ہونے کا بیان آیا ہے۔
- سورۂ فاتحہ کی قراءت نماز سے براہ راست جڑی ہوئی ہے۔
- روایت کا عملی پیغام نمازی کے لیے بہت صاف ہے۔
- حدیث کے الفاظ کو اسی طرح سمجھنا چاہیے جیسے نقل ہوئے ہیں۔
