صحیح مسلم حدیث ۸۷۸ - سورۂ فاتحہ بندے اور رب کے درمیان
سورۂ فاتحہ: نماز میں بندے اور اللہ کے درمیان کلام
صحیح مسلم : ۸۷۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۷۸
وحَدَّثَنَاه وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ صَلَّى صَلَاةً ، لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ ، فَهِيَ خِدَاجٌ ، ثَلَاثًا غَيْرُ تَمَامٍ ، فَقِيلَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : إِنَّا نَكُونُ وَرَاءَ الإِمَامِ ، فَقَالَ : اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ ، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ ، فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : حَمِدَنِي عَبْدِي ، وَإِذَا قَالَ : الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 3 ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي ، وَإِذَا قَالَ : مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4 ، قَالَ : مَجَّدَنِي عَبْدِي ، وَقَالَ : مَرَّةً فَوَّضَ إِلَيَّ عَبْدِي ، فَإِذَا قَالَ : إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سورة الفاتحة آية 5 ، قَالَ : هَذَا بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي ، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ ، فَإِذَا قَالَ : اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ { 6 } صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ { 7 } سورة الفاتحة آية 6-7 ، قَالَ : هَذَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ " ، قَالَ سُفْيَانُ : حَدَّثَنِي بِهِ الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ مَرِيضٌ فِي بَيْتِهِ فَسَأَلْتُهُ أَنَا عَنْهُ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز میں سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی تو اس کی نماز پوری نہیں ہوئی بلکہ اس کی نماز ناقص رہی۔“ یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار ارشاد فرمایا۔ لوگوں نے پوچھا کہ جب ہم امام کے پیچھے ہوں تو کیا کریں؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواباً کہا: اس وقت تم لوگ آہستہ سورۂ فاتحہ پڑھ لیا کرو۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ عزوجل کا یہ قول فرماتے سنا ہے: ”نماز میرے اور میرے بندے کے درمیان آدھی آدھی تقسیم ہو چکی ہے۔ اور میرا بندہ جو سوال کرتا ہے وہ پورا کیا جاتا ہے۔جب کوئی شخص «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» کہتا ہے تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تعریف کی۔ اور نمازی جب «الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندہ نے میری توصیف کی۔ اور نمازی جب «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» کہتا ہے تو اللہ عزوجل فرماتا ہے میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی اور یوں بھی کہتا ہے کہ میرے بندے نے اپنے سب کام میرے سپرد کر دیے ہیں۔ اور نمازی جب «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» پڑھتا ہے۔ تو اللہ عزوجل فرماتا ہے یہ میرے اور میرے بندے کا درمیانی معاملہ ہے میرا بندہ جو سوال کرے گا وہ اس کو ملے گا۔پھر جب نمازی اپنی نماز میں «اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ» پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ جواب دیتا ہے کہ یہ سب میرے اس بندے کیلئے ہے اور یہ جو کچھ طلب کرے گا وہ اسے دیا جائے گا۔“سفیان رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: میری دریافت پر یہ حدیث مجھ سے علاء بن عبدالرحمٰن بن یعقوب نے اس وقت بیان کی جب کہ وہ بیمار تھے اور میں ان کی عیادت کیلئے ان کے گھر گیا تھا۔
صحیح مسلم حدیث ۸۷۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز میں سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی، اس کی نماز پوری نہیں ہوئی، بلکہ ناقص رہی۔ یہ بات تین بار فرمائی گئی۔ جب امام کے پیچھے پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آہستہ پڑھ لیا کرو۔ پھر انہوں نے وہ حدیث بیان کی جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نماز میرے اور میرے بندے کے درمیان آدھی آدھی تقسیم ہے۔ جب بندہ «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری تعریف کی۔ اسی طرح فاتحہ کی آیات کے جواب بیان ہوئے۔ اس حدیث سے سورۂ فاتحہ کی قراءت، دعا، حمد، بندگی اور اللہ سے مدد مانگنے کا خوبصورت مضمون سامنے آتا ہے، مگر سب کچھ اسی متن کے اندر رہ کر سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سورۂ فاتحہ نہ پڑھنے والی نماز کو ناقص کہا گیا ہے۔
- امام کے پیچھے آہستہ سورۂ فاتحہ پڑھنے کا جواب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل ہوا ہے۔
- فاتحہ میں حمد، عبادت، مدد طلبی اور ہدایت کی دعا شامل ہے۔
- حدیث میں فاتحہ کی آیات پر اللہ تعالیٰ کے جواب کا بیان آیا ہے۔
