سنن ابن ماجہ حدیث ۱۱۹ - علیؓ مجھ سے ہیں
علیؓ مجھ سے ہیں اور میں علیؓ سے ہوں
سنن ابن ماجہ : ۱۱۹
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۱۹
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَة ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، قَالُوا : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " عَلِيٌّ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَلَا يُؤَدِّي عَنِّي إِلَّا عَلِيٌّ " .
حبشی بن جنادہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”علی مجھ سے ہیں، اور میں ان سے ہوں، اور میری طرف سے اس پیغام کو سوائے علی کے کوئی اور پہنچا نہیں سکتا“ ۱؎۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۱۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت حبشی بن جنادہؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو فرماتے سنا: علی مجھ سے ہیں، اور میں ان سے ہوں، اور میری طرف سے اس پیغام کو علی کے سوا کوئی اور نہیں پہنچا سکتا۔ اس روایت کا موضوع حضرت علی کی قربت اور نمائندگی ہے۔ حدیث کے الفاظ میں حضرت علیؓ کے لیے نبی صلى الله عليه وسلم سے خاص نسبت بیان ہوئی ہے۔ اس میں یہ بھی آیا کہ ایک خاص پیغام پہنچانے کے لیے حضرت علیؓ کا ذکر کیا گیا۔ تشریح میں اسی بات کو رکھا گیا ہے، کیونکہ حدیث میں اس سے زیادہ تفصیل نہیں دی گئی۔ یہ روایت علی منی وانا منہ، حضرت علی کی فضیلت اور نبی صلى الله عليه وسلم سے قربت کے موضوع پر اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حضرت علیؓ کے لیے نبی صلى الله عليه وسلم سے خاص نسبت بیان ہوئی۔
- ایک خاص پیغام کے لیے حضرت علیؓ کو ذکر کیا گیا۔
- فضائلِ علیؓ کو متن کے مطابق سمجھنا چاہیے۔
