سنن ابن ماجہ حدیث ۱۲۰ - علیؓ کی ابتدائی نماز
حضرت علیؓ کا پہلے نماز پڑھنے کا بیان
سنن ابن ماجہ : ۱۲۰
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۲۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَنْبَأَنَا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ الْمِنْهَالِ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ ، قَالَ عَلِيٌّ : " أَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، وَأَخُو رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا الصِّدِّيقُ الأَكْبَرُ لا يَقُولُهَا بَعْدِي إِلا كَذَّابٌ ، صَلَّيْتُ قَبْلَ النَّاسِ بِسَبْعِ سِنِينَ " .
عباد بن عبداللہ روایت:
علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اللہ کا بندہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بھائی ہوں، اور میں صدیق اکبر ہوں، میرے بعد اس فضیلت کا دعویٰ جھوٹا شخص ہی کرے گا، میں نے سب لوگوں سے سات برس پہلے نماز پڑھی۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۲۰ کا خلاصہ
اس روایت میں عباد بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے فرمایا: میں اللہ کا بندہ اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم کا بھائی ہوں، اور میں صدیق اکبر ہوں۔ میرے بعد اس فضیلت کا دعویٰ جھوٹا شخص ہی کرے گا۔ پھر فرمایا کہ میں نے سب لوگوں سے سات برس پہلے نماز پڑھی۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع حضرت علی کی فضیلت اور ابتدائی اسلام ہے۔ روایت میں حضرت علیؓ کا اپنا بیان نقل ہوا ہے، جس میں بندگی، رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے نسبت، صدیق اکبر کا لفظ، اور پہلے نماز پڑھنے کا ذکر ہے۔ تشریح میں اسی متن کو آسان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، کسی اضافی تاریخی دعوے کو شامل نہیں کیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حضرت علیؓ نے اپنی بندگی کو پہلے بیان کیا۔
- انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے اپنی خاص نسبت کا ذکر کیا۔
- نماز کی سبقت کو اپنی فضیلت کے طور پر بیان کیا۔
