سنن ابن ماجہ حدیث ۱۳۹۷ - نماز سے گناہوں کی صفائی
نماز گناہوں کو مٹانے والی عبادت
سنن ابن ماجہ : ۱۳۹۷
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۳۹۷
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ ، يَقُولَ : قَالَ عُثْمَانُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ بِفِنَاءِ أَحَدِكُمْ نَهْرٌ يَجْرِي يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ ، مَا كَانَ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ ؟ " ، قَالَ : لَا شَيْءَ ، قَالَ : " فَإِنَّ الصَّلَاةَ تُذْهِبُ الذُّنُوبَ كَمَا يُذْهِبُ الْمَاءُ الدَّرَنَ " .
عثمان روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”اگر تم میں سے کسی کے آنگن میں نہر بہہ رہی ہو جس میں وہ ہر روز پانچ مرتبہ غسل کرے، تو کیا اس کے بدن پہ کچھ میل کچیل باقی رہ جائے گا؟“ لوگوں نے کہا: کچھ نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز گناہوں کو ایسے ہی ختم کر دیتی ہے جس طرح پانی میل کچیل کو ختم کر دیتا ہے“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۳۹۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی صلى الله عليه وسلم نے نماز کی مثال پانی سے دی ہے جو جسم کی میل کچیل کو صاف کرتا ہے۔ اسی طرح نماز انسان کے گناہوں کو ختم کرتی ہے۔ یہ مثال ہمیں سمجھاتی ہے کہ نماز صرف عبادت نہیں بلکہ روحانی صفائی کا ذریعہ بھی ہے۔ جب بندہ روزانہ پانچ وقت نماز ادا کرتا ہے تو وہ گناہوں سے پاکیزگی حاصل کرتا رہتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز گناہوں کو صاف کرتی ہے
- پانچ وقت کی نماز ضروری ہے
- نماز روحانی پاکیزگی کا ذریعہ ہے
