سنن ابن ماجہ حدیث ۱۴۰۷ - بیت المقدس کی فضیلت
بیت المقدس کی عبادت کی فضیلت
سنن ابن ماجہ : ۱۴۰۷
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۴۰۷
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ، عَنْ أَخِيهِ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ، عَنْ مَيْمُونَةَ مَوْلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفْتِنَا فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، قَالَ : " أَرْضُ الْمَحْشَرِ وَالْمَنْشَرِ ، ائْتُوهُ فَصَلُّوا فِيهِ ، فَإِنَّ صَلَاةً فِيهِ كَأَلْفِ صَلَاةٍ فِي غَيْرِهِ " ، قُلْتُ : أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَتَحَمَّلَ إِلَيْهِ ، قَالَ : " فَتُهْدِي لَهُ زَيْتًا يُسْرَجُ فِيهِ ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَهُوَ كَمَنْ أَتَاهُ " .
میمونہ روایت:
میں نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول! ہم کو بیت المقدس کا مسئلہ بتائیے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو حشر و نشر کی زمین ہے، وہاں جاؤ اور نماز پڑھو، اس لیے کہ اس میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی ہزار نماز کی طرح ہے“ میں نے عرض کیا: اگر وہاں تک جانے کی طاقت نہ ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تم تیل بھیج دو جسے وہاں کے چراغوں میں جلایا جائے، جس نے ایسا کیا گویا وہ وہاں گیا“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۴۰۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں بیت المقدس کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ وہاں نماز پڑھنے کا اجر بہت زیادہ ہے۔ اگر کوئی وہاں نہ جا سکے تو وہاں روشنی یا تیل بھیجنے کا ثواب بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے نزدیک نیت اور خدمت دونوں اہم ہیں۔ بیت المقدس کو ایک مقدس مقام کی حیثیت حاصل ہے اور اس کی عبادت اور خدمت کا بڑا اجر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیت المقدس ایک مقدس مقام ہے
- وہاں عبادت کا بڑا اجر ہے
- نیکی میں مدد کرنا بھی ثواب کا ذریعہ ہے
