سنن ابن ماجہ حدیث ۱۴۱۲ - مسجد قباء میں وضو اور نماز کا اجر
وضو کے ساتھ مسجد قباء جانے کی فضیلت
سنن ابن ماجہ : ۱۴۱۲
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۴۱۲
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْكَرْمَانِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، يَقُولَ : قَالَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَطَهَّرَ فِي بَيْتِهِ ، ثُمَّ أَتَى مَسْجِدَ قُبَاءَ ، فَصَلَّى فِيهِ صَلَاةً كَانَ لَهُ كَأَجْرِ عُمْرَةٍ " .
سہل بن حنیف روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے گھر میں وضو کرے، پھر مسجد قباء آئے اور اس میں نماز پڑھے، تو اسے ایک عمرہ کا ثواب ملے گا“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۴۱۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ جو شخص اپنے گھر سے وضو کر کے مسجد قباء جائے اور وہاں نماز پڑھے، اسے عمرہ کے برابر ثواب ملتا ہے۔ یہ عمل صفائی، نیت اور عبادت کے اجتماع کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ چھوٹے اعمال بھی اللہ کے ہاں بڑے اجر کا سبب بن سکتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وضو کے ساتھ مسجد جانا افضل عمل ہے
- مسجد قباء میں نماز کا بڑا ثواب ہے
- نیک نیت سے اعمال کا اجر بڑھ جاتا ہے
