سنن ابن ماجہ حدیث ۱۶۱ - صحابہ کرام کی شان اور ادب

صحابہ کرام کی شان: میرے صحابہ کو گالیاں نہ دو

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۶۱

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ جَمِيعًا ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ ، وَلَا نَصِيفَهُ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے صحابہ کو گالیاں نہ دو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا اللہ کی راہ میں صرف کر ڈالے تو ان میں کسی کے ایک مد یا آدھے مد کے برابر بھی ثواب نہ پائے گا“۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۱۶۱ کا خلاصہ

یہ حدیث صحابہ کرام کی فضیلت اور ان کے ادب کے بارے میں بہت صاف پیغام دیتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے صحابہ کو گالیاں نہ دو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کا احترام دین کا ایک اہم حصہ ہے۔ حدیث میں احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرنے کی مثال دے کر بتایا گیا کہ بعد کے لوگوں کا بڑا عمل بھی صحابہ کے ایک مد یا آدھے مد کے برابر نہیں پہنچتا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ نیکی کم اہم ہے، بلکہ صحابہ کی صحبت، ایمان، قربانی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے کا مقام بہت خاص ہے۔ اس لیے صحابہ کرام کی شان، صحابہ کا ادب، اور اصحاب رسول کی محبت مسلمان کے دل میں ہونی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صحابہ کرام کو برا کہنا سخت منع ہے۔
  • صحابہ کی قربانی اور مقام عام لوگوں کے اعمال سے بہت بلند ہے۔
  • زبان کو اصحاب رسول کے بارے میں ادب کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں