سنن ابن ماجہ حدیث ۱۶۲ - اصحاب محمد صلى الله عليه وسلم کا بلند مقام

اصحاب محمد صلى الله عليه وسلم کی فضیلت: صحابہ کو گالیاں نہ دو

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۶۲

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ نُسَيْرِ بْنِ ذُعْلُوقٍ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ ، يَقُولُ : " لَا تَسُبُّوا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمُقَامُ أَحَدِهِمْ سَاعَةً خَيْرٌ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ عُمْرَهُ " .

نسیر بن ذعلوق روایت:

ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: ”اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نہ دو، ان کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں ایک لمحہ رہنا تمہارے ساری عمر کے عمل سے بہتر ہے“۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۱۶۲ کا خلاصہ

اس روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بہت واضح انداز میں اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب کی تعلیم دی۔ انہوں نے فرمایا کہ صحابہ کو گالیاں نہ دو۔ پھر ان کے مقام کو سمجھانے کے لیے کہا کہ ان میں سے کسی کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں ایک لمحہ رہنا تمہارے ساری عمر کے عمل سے بہتر ہے۔ یہ بات صحابہ کرام کی شان کو بیان کرتی ہے۔ یہاں اصل سبق یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کا مقام عام لوگوں جیسا نہیں۔ ان کی صحبت، قربانی، ایمان اور نبی کے قریب رہنے کی سعادت بہت بڑی نعمت تھی۔ اس لیے صحابہ کی فضیلت، اصحاب رسول کا احترام، اور صحابہ سے محبت دل میں رکھنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اصحاب محمد صلى الله عليه وسلم کے بارے میں زبان کو ادب میں رکھنا چاہیے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم کی صحبت صحابہ کے لیے بہت بڑی فضیلت تھی۔
  • صحابہ کے مقام کو عام لوگوں کے اعمال سے ناپنا درست نہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں