سنن ابن ماجہ حدیث ۱۶۶ - ابن عباسؓ کے لیے علم کی دعا
ابن عباسؓ کے لیے دعا: قرآن کی تفسیر اور حکمت کا علم
سنن ابن ماجہ : ۱۶۶
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۶۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : ضَمَّنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْحِكْمَةَ وَتَأْوِيلَ الْكِتَابِ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سینہ سے لگایا، اور یہ دعا فرمائی: «اللهم علمه الحكمة وتأويل الكتاب» ”اے اللہ! اس کو میری سنت اور قرآن کی تفسیر کا علم عطاء فرما“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۶۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاص دعا بیان ہوئی ہے۔ آپ نے انہیں اپنے سینے سے لگایا اور دعا فرمائی کہ اے اللہ! اسے حکمت اور کتاب کی تاویل کا علم عطا فرما۔ ترجمہ میں حکمت سے سنت کا علم اور کتاب کی تاویل سے قرآن کی تفسیر کا علم مراد بیان کیا گیا ہے۔ یہ حدیث علم دین کی فضیلت کو بہت سادہ انداز میں سمجھاتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کو سمجھنا، اس کی تفسیر جاننا، اور سنت کا علم حاصل کرنا بڑی نعمت ہے۔ اس حدیث میں ابن عباس کی فضیلت، قرآن کی تفسیر، اور علم حکمت کا موضوع نمایاں ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن کی سمجھ اور تفسیر کا علم بڑی نعمت ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے ابن عباسؓ کے لیے علم کی دعا فرمائی۔
- علم دین کے لیے دعا کرنا ایک اچھا عمل ہے۔
