سنن ابن ماجہ حدیث ۱۶۵ - انصار کے لیے رحمت کی دعا
انصار کے لیے دعا: اللہ انصار پر رحم فرمائے
سنن ابن ماجہ : ۱۶۵
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۶۵
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَحِمَ اللَّهُ الْأَنْصَارَ ، وَأَبْنَاءَ الْأَنْصَارِ ، وَأَبْنَاءَ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ " .
عوف روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ انصار پر، ان کے بیٹوں اور پوتوں پر رحم کرے“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۶۵ کا خلاصہ
یہ مختصر حدیث انصار کی فضیلت کو بہت پیارے انداز میں بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ انصار پر، ان کے بیٹوں پر، اور ان کے پوتوں پر رحم کرے۔ اس میں انصار کے لیے دعا بھی ہے اور ان کے خاندان کے لیے خیر بھی۔ حدیث کا اصل موضوع انصار کی محبت اور ان کے لیے رحمت کی دعا ہے۔ اس متن سے معلوم ہوتا ہے کہ انصار کا مقام ایسا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے خاص الفاظ میں دعا فرمائی۔ ہمیں اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ انصار کی شان کو پہچانیں، ان کے لیے اچھے جذبات رکھیں، اور صحابہ کرام کے ذکر میں ادب کریں۔ انصار کی فضیلت اور انصار سے محبت مسلمانوں کے دل میں نرم اور صاف رویہ پیدا کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے انصار کے لیے رحمت کی دعا فرمائی۔
- انصار کے اہل خانہ کا ذکر بھی خیر کے ساتھ آیا ہے۔
- صحابہ کے لیے دعا اور ادب کا رویہ اپنانا چاہیے۔
