صحیح بخاری حدیث ۳۷۹۷ - مغفرت کی دعا

خندق کی مشقت میں آخرت اور مغفرت کی دعا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۹۷

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلٍ ، قَالَ : جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَحْفِرُ الْخَنْدَقَ وَنَنْقُلُ التُّرَابَ عَلَى أَكْتَادِنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ " .

سہل روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم خندق کھود رہے تھے اور اپنے کندھوں پر مٹی اٹھا رہے تھے۔ اس وقت آپ نے یہ دعا فرمائی «اللهم لا عيش إلا عيش الآخره فاغفر للمهاجرين والأنصار‏"‏‏.» ”اے اللہ! آخرت کی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی حقیقی زندگی نہیں، پس انصار اور مہاجرین کی تو مغفرت فرما۔“

صحیح بخاری حدیث ۳۷۹۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں صحابہ خندق کھود رہے تھے اور کندھوں پر مٹی اٹھا رہے تھے۔ اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور دعا فرمائی: اے اللہ! آخرت کی زندگی کے سوا کوئی زندگی حقیقی نہیں، پس مہاجرین اور انصار کی مغفرت فرما۔ یہ دعا مشکل کام کے بیچ آخرت کی یاد دلاتی ہے۔ خندق کی مشقت، مٹی اٹھانا، اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا، سب مل کر ایک سادہ مگر مضبوط پیغام دیتے ہیں: دین کے راستے کی محنت ضائع نہیں سمجھنی چاہیے، بلکہ آخرت کی امید کے ساتھ کرنی چاہیے۔ اس حدیث میں مہاجرین و انصار کی فضیلت بھی صاف ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مغفرت کی دعا کی۔ ہمیں بھی محنت کے وقت اللہ سے معافی اور آخرت کی بھلائی مانگنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مشکل محنت کے وقت آخرت کو یاد رکھا جائے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے مہاجرین اور انصار کے لیے مغفرت مانگی۔
  • دین کے کام میں جسمانی مشقت بھی آ سکتی ہے۔
  • دعا مومن کے لیے سہارا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں