صحیح بخاری حدیث ۳۷۹۸ - ایثار و مہمان نوازی
ایثار کی حدیث: مہمان کو اپنے اوپر ترجیح دینا
صحیح بخاری : ۳۷۹۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۹۸
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ إِلَى نِسَائِهِ ، فَقُلْنَ : مَا مَعَنَا إِلَّا الْمَاءُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَضُمُّ أَوْ يُضِيفُ هَذَا " ، فَقَالَ : رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ أَنَا فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى امْرَأَتِهِ ، فَقَالَ : أَكْرِمِي ضَيْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : مَا عِنْدَنَا إِلَّا قُوتُ صِبْيَانِي ، فَقَالَ : هَيِّئِي طَعَامَكِ وَأَصْبِحِي سِرَاجَكِ وَنَوِّمِي صِبْيَانَكِ إِذَا أَرَادُوا عَشَاءً , فَهَيَّأَتْ طَعَامَهَا وَأَصْبَحَتْ سِرَاجَهَا وَنَوَّمَتْ صِبْيَانَهَا ، ثُمَّ قَامَتْ كَأَنَّهَا تُصْلِحُ سِرَاجَهَا فَأَطْفَأَتْهُ , فَجَعَلَا يُرِيَانِهِ أَنَّهُمَا يَأْكُلَانِ فَبَاتَا طَاوِيَيْنِ , فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " ضَحِكَ اللَّهُ اللَّيْلَةَ أَوْ عَجِبَ مِنْ فَعَالِكُمَا " , فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ سورة الحشر آية 9 .
ابوہریرہ روایت:
ایک صاحب (خود ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی مراد ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھوکے حاضر ہوئے، آپ نے انہیں ازواج مطہرات کے یہاں بھیجا۔ (تاکہ ان کو کھانا کھلا دیں) ازواج مطہرات نے کہلا بھیجا کہ ہمارے پاس پانی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی کون مہمانی کرے گا؟ایک انصاری صحابی بولے میں کروں گا۔ چنانچہ وہ ان کو اپنے گھر لے گئے اور اپنی بیوی سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان کی خاطر تواضع کر، بیوی نے کہا کہ گھر میں بچوں کے کھانے کے سوا اور کوئی چیز بھی نہیں ہے، انہوں نے کہا جو کچھ بھی ہے اسے نکال دو اور چراغ جلا لو اور بچے اگر کھانا مانگتے ہیں تو انہیں سلا دو۔بیوی نے کھانا نکال دیا اور چراغ جلا دیا اور اپنے بچوں کو (بھوکا) سلا دیا، پھر وہ دکھا تو یہ رہی تھیں جیسے چراغ درست کر رہی ہوں لیکن انہوں نے اسے بجھا دیا، اس کے بعد دونوں میاں بیوی مہمان پر ظاہر کرنے لگے کہ گویا وہ بھی ان کے ساتھ کھا رہے ہیں، لیکن ان دونوں نے (اپنے بچوں سمیت رات) فاقہ سے گزار دی، صبح کے وقت جب وہ صحابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں میاں بیوی کے نیک عمل پر رات کو اللہ تعالیٰ ہنس پڑا یا (یہ فرمایا کہ اسے) پسند کیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «ويؤثرون على أنفسهم ولو كان بهم خصاصة ومن يوق شح نفسه فأولئك هم المفلحون» ”اور وہ (انصار) ترجیح دیتے ہیں اپنے نفسوں کے اوپر (دوسرے غریب صحابہ کو) اگرچہ وہ خود بھی فاقہ ہی میں ہوں اور جو اپنی طبیعت کے بخل سے محفوظ رکھا گیا سو ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۷۹۸ کا خلاصہ
یہ حدیث ایثار اور مہمان نوازی کی بہت مؤثر مثال ہے۔ ایک بھوکے شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ گھروں میں پانی کے سوا کچھ نہ ملا، تو ایک انصاری صحابی اسے اپنے گھر لے گئے۔ گھر میں بچوں کے کھانے کے سوا کچھ نہ تھا، مگر میاں بیوی نے مہمان کو کھلانے کا انتظام کیا، بچوں کو سلا دیا، چراغ بجھا دیا، اور خود کھانے کا ظاہر کرتے رہے۔ رات انہوں نے فاقے سے گزاری۔ صبح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اللہ نے ان دونوں کے عمل کو پسند فرمایا یا اس پر خوشی کا اظہار فرمایا۔ پھر آیت نازل ہوئی کہ وہ اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں، اگرچہ خود ضرورت مند ہوں۔ یہ ایثار کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ کبھی کبھی محبت کا سچا امتحان اپنی ضرورت کے وقت دوسروں کو دینا ہوتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مہمان کی عزت کرنا ایمان والے اخلاق میں سے ہے۔
- انصاری گھرانے نے اپنی ضرورت کے باوجود مہمان کو ترجیح دی۔
- ایثار کا عمل اللہ کے نزدیک پسندیدہ ہو سکتا ہے۔
- بخل سے بچنا فلاح کا راستہ ہے، جیسا کہ آیت میں آیا۔
