سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۷۱ - نکاح میں اجازت اور رضامندی

نکاح میں اجازت لینے کا شرعی اصول

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۸۷۱

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تُنْكَحُ الثَّيِّبُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ ، وَلَا الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ ، وَإِذْنُهَا الصُّمُوتُ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غیر کنواری عورت کا نکاح اس کی واضح اجازت کے بغیر نہ کیا جائے، اور کنواری کا نکاح بھی اس سے اجازت لے کر کیا جائے، اور کنواری کی اجازت اس کی خاموشی ہے“۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۷۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں بھی یہی اصول بیان ہوا ہے کہ عورت کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح نہیں کیا جا سکتا۔ غیر کنواری عورت سے واضح اجازت لی جائے گی جبکہ کنواری کی خاموشی کو اجازت سمجھا جائے گا۔ یہ تعلیم عورت کے احترام اور اس کے حق کو واضح کرتی ہے۔ اسلام نکاح کو ایک باہمی رضامندی کا معاہدہ بناتا ہے نہ کہ زبردستی کا عمل۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نکاح صرف رضامندی سے ہونا چاہیے
  • کنواری کی خاموشی اجازت ہو سکتی ہے
  • عورت کے حق کو اسلام میں اہمیت دی گئی ہے

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں