سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۷۲ - نکاح میں رضامندی اور خاموشی
خاموشی کو اجازت سمجھنے کی وضاحت
سنن ابن ماجہ : ۱۸۷۲
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۸۷۲
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الثَّيِّبُ تُعْرِبُ عَنْ نَفْسِهَا ، وَالْبِكْرُ رِضَاهَا صَمْتُهَا " .
عدی کندی روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غیر کنواری عورت اپنی رضا مندی صراحۃً ظاہر کرے، اور کنواری کی رضا مندی اس کی خاموشی ہے“ ۱؎۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۷۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں بتایا گیا کہ غیر کنواری عورت اپنی رضامندی واضح کرے گی جبکہ کنواری عورت کی خاموشی اس کی اجازت سمجھی جائے گی۔ یہ اصول اس لیے بیان کیا گیا تاکہ شرم و حیا کے باوجود نکاح کے فیصلے میں اس کا حق محفوظ رہے۔ اسلام نکاح میں آسانی اور عورت کے احترام کو برقرار رکھتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کنواری کی خاموشی اجازت شمار ہو سکتی ہے
- نکاح میں عورت کی رائے ضروری ہے
- شرم و حیا کے ساتھ شرعی رہنمائی موجود ہے
