صحیح مسلم حدیث ۱۰۴۷ - اکیلے میں لمبی اور جماعت میں ہلکی نماز

اکیلی نماز اور جماعت کی نماز میں فرق

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۴۷

حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا مَا قَامَ أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ ، فَلْيُخَفِّفْ الصَّلَاةَ ، فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ ، وَفِيهِمُ الضَّعِيفَ ، وَإِذَا قَامَ وَحْدَهُ ، فَلْيُطِلْ صَلَاتَهُ مَا شَاءَ " .

ہمام بن منبہ روایت:

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر کئی حدیثیں بیان کیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی تم میں سے نماز پڑھائے تو ہلکی نماز پڑھے اس لئے کہ جماعت میں بوڑھے اور ناتواں ہوتے ہیں البتہ جب اکیلے پڑھے تو جس طرح اپنا جی چاہے اپنی نماز لمبی کرے۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۰۴۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں وہی اصول مزید صاف انداز میں آتا ہے کہ جب کوئی لوگوں کے لیے کھڑا ہو یعنی امامت کرے تو نماز ہلکی رکھے، کیونکہ جماعت میں بوڑھے اور ناتواں لوگ ہوتے ہیں۔ لیکن جب اکیلا کھڑا ہو تو جتنی چاہے نماز لمبی کرے۔ یہ بات عام زندگی کے لیے بھی سمجھنے میں آسان ہے: جب کام صرف اپنا ہو تو انسان اپنی طاقت دیکھتا ہے، مگر جب دوسرے لوگ ساتھ ہوں تو ان کی سہولت بھی دیکھنی پڑتی ہے۔ اس روایت میں “اکیلی نماز لمبی پڑھنا” اور “جماعت میں ہلکی نماز” اہم تلاش کیے جانے والے الفاظ ہیں۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ عبادت میں شوق ہو، مگر امامت میں لوگوں کی رعایت بھی ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • امام جماعت میں نماز کو مختصر رکھے تاکہ کمزور لوگ مشکل میں نہ آئیں۔
  • اکیلی نماز میں اپنی طاقت کے مطابق طوالت اختیار کی جا سکتی ہے۔
  • دوسروں کی قیادت کرتے وقت ان کی حالت کا خیال ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں