صحیح مسلم حدیث ۱۰۴۸ - کام والے مقتدیوں کی رعایت
امام کے پیچھے کمزور، بیمار اور کام والے لوگ
صحیح مسلم : ۱۰۴۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۴۸
وحَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ ، فَلْيُخَفِّفْ ، فَإِنَّ فِي النَّاسِ ، الضَّعِيفَ ، وَالسَّقِيمَ ، وَذَا الْحَاجَةِ " ،
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی تم میں سے نماز پڑھائے تو ہلکی نماز پڑھے اس لئے کہ لوگوں میں ناتواں اور بیمار اور کام والے ہوتے ہیں۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۰۴۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے امام کو ہلکی نماز پڑھانے کی ہدایت فرمائی اور وجہ بھی بیان کی کہ لوگوں میں ناتواں، بیمار اور کام والے افراد ہوتے ہیں۔ یہ الفاظ امامت کی ذمہ داری کو بہت واضح کر دیتے ہیں۔ امام کے پیچھے سب لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے؛ کسی کی صحت کمزور ہو سکتی ہے، کسی کو ضرورت پیش آ سکتی ہے، اور کوئی کام کے دباؤ میں ہو سکتا ہے۔ اس لیے “امام ہلکی نماز پڑھائے” صرف ایک فقہی جملہ نہیں بلکہ لوگوں کی حالت سمجھنے والی ہدایت ہے۔ حدیث کی وضاحت میں اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ جماعت کی نماز میں آسانی رکھی جائے، مگر نماز کے اصل ارکان کو چھوڑنے کی بات متن میں نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امام کو کمزور اور بیمار مقتدیوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
- کام والے شخص کی ضرورت بھی جماعت میں قابلِ لحاظ ہے۔
- نماز میں آسانی کا مطلب لوگوں کو مشقت سے بچانا ہے۔
