صحیح مسلم حدیث ۱۰۸۶ - سورۃ النصر اور استغفار
سورۃ النصر کے بعد تسبیح اور استغفار کی کثرت
صحیح مسلم : ۱۰۸۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۸۶
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ قَبْلَ أَنْ يَمُوت : " سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا هَذِهِ الْكَلِمَاتُ الَّتِي أَرَاكَ أَحْدَثْتَهَا ، تَقُولُهَا ؟ قَالَ : جُعِلَتْ لِي عَلَامَةٌ فِي أُمَّتِي ، إِذَا رَأَيْتُهَا قُلْتُهَا إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورة النصر آية 1 ، إِلَى آخِرِ السُّورَةِ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات سے پہلے اکثر فرماتے تھے: «سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کیا کلمے ہیں جن کو آپ نے نکالا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہی کو کہا کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے میرے لیے ایک نشانی مقرر کر دی ہے میری امت میں، جب میں اس کو دیکھتا ہوں تو ان کلموں کو کہتا ہوں: «إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ» آخر سورۃ تک۔
صحیح مسلم حدیث ۱۰۸۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات سے پہلے اکثر یہ کلمات کہتے تھے: سبحانک وبحمدک، استغفرک واتوب الیک۔ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ آپ یہ نئے کلمات کیوں کثرت سے کہتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے میری امت میں ایک نشانی مقرر کی ہے، جب میں اسے دیکھتا ہوں تو یہ کلمات کہتا ہوں، پھر آپ نے سورۃ النصر کا ذکر فرمایا۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع سورۃ النصر، استغفار اور توبہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی مدد اور فتح کے بعد بھی بندگی کا انداز تسبیح، حمد، استغفار اور توبہ ہی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم تسبیح، حمد، استغفار اور توبہ کے کلمات کثرت سے پڑھتے تھے۔
- سورۃ النصر کے مضمون کے بعد استغفار کا عمل نمایاں ہوا۔
- اللہ کی نعمت کے موقع پر بھی بندہ اللہ کی پاکی بیان کرے اور بخشش مانگے۔
