صحیح مسلم حدیث ۱۰۸۷ - نماز میں استغفار کی دعا

نماز میں تسبیح اور مغفرت: سبحانک ربی وبحمدک

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۸۷

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مُنْذُ نَزَلَ عَلَيْهِ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ، يُصَلِّي صَلَاةً ، إِلَّا دَعَا ، أَوَ قَالَ فِيهَا : " سُبْحَانَكَ رَبِّي وَبِحَمْدِكَ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي " .

عائشہ روایت:

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب سے سورۂ «إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ» اتری، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو دعا کرتے اور فرماتے: «سُبْحَانَكَ رَبِّى وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِى» یعنی ”پاک ہے تو میرے رب، اور شکر ہے تیرا، یا اللہ بخش دے مجھ کو۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۰۸۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک واضح مشاہدہ بیان کیا ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ جب سے سورۃ اذا جاء نصر اللہ والفتح اتری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی نماز پڑھتے تو دعا کرتے یا اس میں یہ کہتے: سبحانک ربی وبحمدک، اللہم اغفر لی۔ اس دعا میں اللہ کی پاکی، اس کی حمد، اور اپنی مغفرت کی درخواست شامل ہے۔ حدیث کا اصل موضوع نماز میں استغفار، سورۃ النصر، اور رکوع و سجدہ کی دعا سے جڑا ہوا ہے۔ عام فہم بات یہ ہے کہ نماز صرف پڑھ لینے کا نام نہیں، بلکہ اس میں اللہ کی بڑائی ماننا اور اپنے لیے بخشش مانگنا بھی شامل ہے، جیسا کہ اس روایت میں نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل بیان ہوا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سورۃ النصر کے نزول کے بعد نبی صلى الله عليه وسلم نماز میں خاص دعا پڑھتے تھے۔
  • نماز میں اللہ کی پاکی، حمد اور مغفرت کی طلب جمع ہو سکتی ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل قرآن کے حکم سے جڑا ہوا تھا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں