صحیح مسلم حدیث ۱۰۸۸ - تسبیح، استغفار اور توبہ
سبحان اللہ وبحمدہ، استغفراللہ واتوب الیہ: سورۃ النصر کی تعلیم
صحیح مسلم : ۱۰۸۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۸۸
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُكْثِرُ مِنْ قَوْلِ : " سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَاكَ تُكْثِرُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ؟ فَقَالَ : " خَبَّرَنِي رَبِّي ، أَنِّي سَأَرَى عَلَامَةً فِي أُمَّتِي ، فَإِذَا رَأَيْتُهَا ، أَكْثَرْتُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ، فَقَدْ رَأَيْتُهَا إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورة النصر آية 1 ، فَتْحُ مَكَّةَ ، وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا { 2 } فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا { 3 } سورة النصر آية 2-3 " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ فرماتے تھے: «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» کہتی ہیں کہ پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں دیکھتی ہوں کہ آپ «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» زیادہ کہتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے میرے رب نے بیان کیا کہ تو اپنی امت میں ایک نشانی دیکھے گا۔ پھر جب اس نشانی کو دیکھتا ہوں تو تسبیح کہتا ہوں یعنی «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» کہتا ہوں۔ وہ نشانی یہ ہے «إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ» آخر تک یعنی اللہ کی مدد آ گئی اور مکہ فتح ہو گیا اور لوگ اللہ کے دین میں جوق در جوق شریک ہونے لگے، تو اللہ کی تعریف کر، پاکی بول اور بخشش مانگ اس سے، وہ بخشنے والا ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۰۸۸ کا خلاصہ
یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سوال اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب پر مشتمل ہے۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے سبحان اللہ وبحمدہ، استغفر اللہ واتوب الیہ کہتے تھے۔ پوچھنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ میرے رب نے مجھے خبر دی کہ میں اپنی امت میں ایک نشانی دیکھوں گا، پھر جب وہ نشانی دیکھی تو یہ کلمات زیادہ کہے۔ روایت میں سورۃ النصر کا مضمون بھی بیان ہوا: اللہ کی مدد، فتح مکہ، لوگوں کا دین میں داخل ہونا، پھر رب کی حمد کے ساتھ تسبیح اور استغفار۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع تسبیح، استغفار، توبہ اور سورۃ النصر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم تسبیح، حمد، استغفار اور توبہ کو کثرت سے پڑھتے تھے۔
- سورۃ النصر میں فتح کے بعد بھی رب کی پاکی اور بخشش مانگنے کا حکم ہے۔
- اللہ کی مدد دیکھ کر بندگی کا جواب شکر، تسبیح اور استغفار ہے۔
