صحیح مسلم حدیث ۱۰۹۴ - جنت میں رفاقت اور سجدہ
جنت میں نبی صلى الله عليه وسلم کی رفاقت: کثرتِ سجود سے مدد کرو
صحیح مسلم : ۱۰۹۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۹۴
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا هِقْلُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الأَوْزَاعِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ الأَسْلَمِيُّ ، قَالَ : " كُنْتُ أَبِيتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوئِهِ وَحَاجَتِهِ ، فَقَالَ لِي : سَلْ ، فَقُلْتُ : أَسْأَلُكَ مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ ، قُلْتُ : هُوَ ذَاكَ ، قَالَ : فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ ، بِكَثْرَةِ السُّجُودِ " .
ربیعہ بن کعب اسلمی روایت:
میں رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہا کرتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو اور حاجت کا پانی لایا کرتا۔ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مانگ کیا مانگتا ہے۔“ میں نے عرض کیا کہ میں جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ اور۔“ میں نے عرض کیا: بس یہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا کثرت سجود سے تو میری مدد کر۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۰۹۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ کا خوبصورت واقعہ ہے۔ وہ رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہتے اور وضو وغیرہ کا پانی لاتے تھے۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مانگو۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کچھ اور؟ انہوں نے کہا: بس یہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا، کثرتِ سجود سے اپنی طرف سے میری مدد کرو۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع کثرتِ سجود اور جنت میں رفاقت ہے۔ متن سے معلوم ہوتا ہے کہ بلند خواہش کے ساتھ عمل کی طرف بھی توجہ دلائی گئی۔ یہاں سجدہ، نماز اور بندگی کو عملی راستہ بتایا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابی نے جنت میں نبی صلى الله عليه وسلم کی رفاقت جیسی بلند خواہش ظاہر کی۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اس خواہش کے لیے کثرتِ سجود کی نصیحت فرمائی۔
- اچھی تمنا کے ساتھ عمل کی کوشش بھی مطلوب ہے۔
