صحیح مسلم حدیث ۱۱۴۱ - تہجد کے بعد وتر پڑھنے کی حدیث

تہجد اور وتر کی حدیث: گھر میں رات کی نماز کا خوبصورت انداز

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۱۴۱

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُصَلِّي صَلَاتَهُ مِنَ اللَّيْلِ كُلَّهَا ، وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ ، أَيْقَظَنِي ، فَأَوْتَرْتُ " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تہجد کی نماز پوری ادا کرتے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قبلہ کی طرف آڑی پڑی رہتی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر ادا کرنا چاہتے تو مجھے جگا دیتے میں بھی وتر پڑھ لیتی۔

صحیح مسلم حدیث ۱۱۴۱ کا خلاصہ

یہ حدیث تہجد اور وتر کی نماز کے بارے میں ایک سادہ مگر بہت پیاری بات بتاتی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز پوری ادا فرماتے تھے، جبکہ وہ آپ کے سامنے قبلہ کی طرف آڑی لیٹی ہوتی تھیں۔ جب آپ وتر پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو انہیں جگا دیتے، پھر وہ بھی وتر پڑھ لیتیں۔ اس سے رات کی نماز، وتر کی حدیث، اور گھر میں عبادت کے آداب سے متعلق ایک عملی بات سامنے آتی ہے۔ روایت میں سختی یا دکھاوے کا انداز نہیں، بلکہ گھر کے ماحول میں عبادت، آرام اور باہمی خیال کا ذکر ہے۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کا اہتمام فرماتے تھے اور اپنے گھر والوں کو بھی اس خیر میں شریک کرتے تھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز کا اہتمام فرماتے تھے۔
  • وتر پڑھنے کے وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو جگایا جاتا تھا۔
  • گھر کے معمولات کے ساتھ عبادت کا اہتمام بھی کیا جا سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں