صحیح مسلم حدیث ۱۱۴۵ - سجدہ کے وقت پاؤں سمیٹنے کی حدیث
سجدہ کے وقت پاؤں سمیٹنے کی حدیث: نماز کا گھریلو واقعہ
صحیح مسلم : ۱۱۴۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۱۴۵
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرِجْلَايَ فِي قِبْلَتِهِ ، فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي ، فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ ، وَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا ، قَالَتْ : وَالْبُيُوتُ يَوْمَئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحُ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سوتی اور میرے پاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سامنے قبلے کی طرف ہوتے تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرنے لگتے میرا پاؤں دبا دیتے میں پاؤں سمیٹ لیتی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کھڑے ہو جاتے میں پاؤں پھیلا لیتی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ان دنوں گھر میں چراغ نہ تھا۔
صحیح مسلم حدیث ۱۱۴۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کا ایک گھر کا واقعہ بیان کیا۔ وہ فرماتی ہیں کہ میں آپ کے سامنے سو جاتی تھی اور میرے پاؤں آپ کے قبلہ کی طرف ہوتے تھے۔ جب آپ سجدہ کرنے لگتے تو میرا پاؤں دبا دیتے، میں پاؤں سمیٹ لیتی۔ جب آپ کھڑے ہو جاتے تو میں پاؤں دوبارہ پھیلا لیتی۔ پھر انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان دنوں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔ یہ حدیث نماز کے سامنے سونا، سجدہ کے وقت جگہ بنانا، اور رات کی نماز کے سادہ ماحول کو بیان کرتی ہے۔ اس میں نہ سختی کا بیان ہے نہ غیر ضروری تفصیل، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے تعاون کا ذکر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز ادا فرماتے تھے۔
- سجدہ کے وقت جگہ بنانے کے لیے نرمی سے اشارہ کیا گیا۔
- گھر کے سادہ ماحول میں بھی عبادت کا اہتمام کیا جاتا تھا۔
