صحیح مسلم حدیث ۱۱۴۴ - نماز کے سامنے عورت کا مسئلہ
نماز کے سامنے عورت کا مسئلہ: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا مشاہدہ
صحیح مسلم : ۱۱۴۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۱۴۴
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " عَدَلْتُمُونَا بِالْكِلَابِ وَالْحُمُرِ ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي مُضْطَجِعَةً عَلَى السَّرِيرِ ، فَيَجِيءُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَتَوَسَّطُ السَّرِيرَ ، فَيُصَلِّي ، فَأَكْرَهُ أَنْ أَسْنَحَهُ ، فَأَنْسَلُّ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيِ السَّرِيرِ ، حَتَّى أَنْسَلَّ مِنْ لِحَافِي " .
عائشہ روایت:
تم نے ہم کو کتوں اور گدھوں کے برابر کر دیا حالانکہ میں نے خود اپنے تئیں تخت پر لیٹے ہوئے دیکھا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آتے اور تخت کے بیچ میں نماز پڑھتے۔ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھلنا برا معلوم ہوتا تو میں تخت کے پایوں سے کھسک کر لحاف سے باہر آ جاتی۔
صحیح مسلم حدیث ۱۱۴۴ کا خلاصہ
یہ حدیث بھی نماز کے سامنے عورت کی حدیث کے سلسلے کی ایک روایت ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ تم نے ہمیں کتوں اور گدھوں کے برابر کر دیا، حالانکہ انہوں نے خود کو تخت پر لیٹے ہوئے دیکھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ کر تخت کے بیچ میں نماز پڑھتے تھے۔ انہیں یہ پسند نہیں تھا کہ وہ آپ کے سامنے کھل کر آئیں یا آپ کو کسی طرح کی تکلیف ہو، اس لیے وہ تخت کے پایوں کی طرف سے کھسک کر لحاف سے باہر آ جاتیں۔ اس روایت میں نماز، گھر کا ماحول، اور ادب تینوں باتیں ایک ساتھ آتی ہیں۔ بات کو بڑھا چڑھا کر نہیں کہا گیا، بلکہ ایک دیکھا ہوا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس مسئلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو سامنے رکھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عورت کو جانوروں کے ساتھ ملانے پر اعتراض کیا۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں بھی نماز ادا فرماتے تھے۔
- نماز پڑھنے والے کے سامنے ادب اور خیال کا انداز اختیار کیا گیا۔
