صحیح مسلم حدیث ۱۱۴۲ - نماز کے سامنے لیٹنے کی حدیث
نماز کے سامنے عورت کی حدیث: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا جواب
صحیح مسلم : ۱۱۴۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۱۴۲
وحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ ، " مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ ؟ قَالَ : فَقُلْنَا : الْمَرْأَةُ ، وَالْحِمَارُ ، فَقَالَتْ إِنَّ الْمَرْأَةَ لَدَابَّةُ سَوْءٍ ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مُعْتَرِضَةً كَاعْتِرَاضِ الْجَنَازَةِ ، وَهُوَ يُصَلِّي " .
عروہ بن زبیر روایت:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نماز کن چیزوں کے سامنے جانے سے ٹوٹ جاتی ہے۔ ہم نے کہا: عورت اور گدھے کے سامنے جانے سے۔ کہا کہ عورت بھی ایک برا جانور ہے۔ میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جنازہ کی طرح آڑی پڑی رہتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا کرتے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۱۴۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں نماز کے سامنے عورت کے گزرنے یا موجود ہونے کے مسئلے پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا جواب نقل ہوا ہے۔ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ نماز کن چیزوں کے سامنے جانے سے ٹوٹ جاتی ہے۔ جواب میں عورت اور گدھے کا ذکر کیا گیا۔ اس پر انہوں نے سخت انداز میں بات کی اور فرمایا کہ کیا عورت بھی کوئی برا جانور ہے؟ پھر انہوں نے اپنا دیکھا ہوا واقعہ بیان کیا کہ وہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جنازہ کی طرح آڑی لیٹی رہتی تھیں اور آپ نماز پڑھتے تھے۔ اس روایت کا اصل موضوع نماز کے سامنے عورت کی حدیث اور نماز میں سامنے لیٹنے کا معاملہ ہے۔ یہاں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے ذاتی مشاہدے کو دلیل کے طور پر بیان کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی بات میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنا دیکھا ہوا واقعہ بیان کیا۔
- نماز کے مسئلے میں بات کرتے وقت روایت اور مشاہدہ اہم بنیاد بنتے ہیں۔
- سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عورت کو جانوروں کے ساتھ ملانے پر اعتراض کیا۔
