صحیح مسلم حدیث ۱۱۸۳ - ماریہ گرجا اور قبروں کا حکم
ماریہ گرجا کی حدیث: قبروں اور تصویروں سے متعلق نصیحت
صحیح مسلم : ۱۱۸۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۱۸۳
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : ذَكَرْنَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَنِيسَةً ، رَأَيْنَهَا بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ ، يُقَالُ لَهَا : مَارِيَةُ ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیوں نے ایک گرجا کا حال بیان کیا جو انہوں نے دیکھا تھا حبشہ کے ملک میں جس کا نام ماریہ تھا۔ پھر ویسا ہی روایت کیا جیسے اوپر ذکر کیا۔
صحیح مسلم حدیث ۱۱۸۳ کا خلاصہ
اس روایت میں ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے حبشہ کے ایک گرجا کا ذکر کیا جس کا نام ماریہ تھا۔ روایت بتاتی ہے کہ اس کا مضمون وہی ہے جو پہلے بیان ہوا: پچھلے لوگ اپنے نیک آدمی کی قبر پر مسجد بناتے اور وہاں تصویریں بناتے تھے۔ اس حدیث میں مین کی ورڈ ماریہ گرجا کی حدیث اور قبروں پر مسجد بنانے کی حدیث ہے۔ عام فہم بات یہ ہے کہ نیک آدمی کی عزت دل میں ہونی چاہیے، مگر اس کی قبر کو عبادت گاہ بنانا درست راستہ نہیں بتایا گیا۔ اسی طرح تصویریں لگا کر عبادت کی جگہ کو سجانا بھی اس روایت کے مضمون میں سخت تنبیہ کے ساتھ آیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیک لوگوں کا مقام مانتے ہوئے بھی ان کی قبروں کو عبادت گاہ نہیں بنانا چاہیے۔
- حبشہ کے گرجا کا ذکر ایک نصیحت کے طور پر آیا ہے۔
- عبادت کی جگہ کو تصویروں سے جوڑنا پچھلے لوگوں کا غلط طریقہ بتایا گیا ہے۔
- حدیث کا مقصد قبر اور مسجد کے معاملے میں احتیاط سکھانا ہے۔
