صحیح مسلم حدیث ۱۱۸۴ - انبیاء کی قبروں کو مسجد بنانے کی ممانعت
انبیاء کی قبروں کو مسجد بنانے کی ممانعت والی حدیث
صحیح مسلم : ۱۱۸۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۱۸۴
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمْ مِنْهُ : " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى ، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " ، قَالَتْ : فَلَوْلَا ذَاكَ أُبْرِزَ قَبْرُهُ ، غَيْرَ أَنَّهُ خُشِيَ أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ : وَلَوْلَا ذَاكَ ، لَمْ يَذْكُرْ : قَالَتْ .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بیماری میں جس کے بعد پھر تندرست نہیں ہوئے: ”لعنت کرے اللہ یہود اور نصاریٰ پر کہ انہوں نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو مسجد بنا لیا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا خیال نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کھلی جگہ میں ہوتی۔ حجرہ میں نہ ہوتی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ڈرے کہ کہیں لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کو مسجد نہ بنا لیں۔
صحیح مسلم حدیث ۱۱۸۴ کا خلاصہ
یہ حدیث قبروں کو مسجد بنانے کی ممانعت کے بارے میں بہت صاف بات کرتی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آخری بیماری میں فرمایا کہ اللہ یہود اور نصاریٰ پر لعنت کرے، انہوں نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو مسجد بنا لیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی بتایا کہ اگر اس بات کا خیال نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کھلی جگہ ہوتی، مگر ڈر تھا کہ لوگ اسے مسجد نہ بنا لیں۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کی قبر تک کے بارے میں امت کو احتیاط سکھائی گئی، تاکہ نماز، سجدہ اور عبادت صرف اللہ کے لیے رہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انبیاء کی قبروں کو مسجد بنانا پچھلی قوموں کا قابل مذمت عمل بتایا گیا ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آخری بیماری میں بھی امت کو اس بات سے خبردار کیا۔
- قبروں کے معاملے میں احتیاط رکھنا عبادت کی حفاظت کے لیے ہے۔
- سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بیان سے قبر کو مسجد بنانے کے خدشے کی وضاحت ہوتی ہے۔
