صحیح مسلم حدیث ۱۱۸۵ - پیغمبروں کی قبروں کو مسجد بنانے سے منع
پیغمبروں کی قبروں کو مسجد بنانے سے منع کرنے والی حدیث
صحیح مسلم : ۱۱۸۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۱۸۵
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، وَمَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ ، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تباہ کرے یہودیوں کو کہ انہوں نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۱۸۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ یہودیوں کو تباہ کرے، انہوں نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔ یہ الفاظ بہت سخت ہیں، اس لیے اس موضوع کو ہلکا نہیں لینا چاہیے۔ مین کی ورڈ پیغمبروں کی قبروں کو مسجد بنانے کی حدیث ہے۔ روایت میں اصل بات یہی ہے کہ قبر کو عبادت کی جگہ نہ بنایا جائے۔ کسی نبی یا نیک آدمی سے محبت ایمان کا حصہ ہے، مگر اس محبت کا طریقہ وہی ہونا چاہیے جو دین نے سکھایا ہے۔ حدیث ہمیں حد بتاتی ہے کہ قبر کی تعظیم کو مسجد اور نماز کے مقام میں تبدیل نہ کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پیغمبروں کی قبروں کو مسجد بنانا سخت مذمت والا عمل بتایا گیا ہے۔
- محبت اور احترام کے نام پر عبادت کی جگہ کو قبر سے نہیں جوڑنا چاہیے۔
- حدیث میں پچھلی قوم کے عمل سے امت کو خبردار کیا گیا ہے۔
- قبر اور مسجد کے فرق کو باقی رکھنا ضروری ہے۔
