صحیح مسلم حدیث ۱۱۸۷ - وفات کے وقت قبروں سے متعلق تنبیہ
وفات کے وقت قبروں کو مسجد بنانے سے خبردار کرنے والی حدیث
صحیح مسلم : ۱۱۸۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۱۸۷
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ حَرْمَلَةُ : أَخْبَرَنَا ، قَالَ وَهَارُونُ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَا : لَمَّا نُزِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، طَفِقَ ، يَطْرَحُ خَمِيصَةً لَهُ عَلَى وَجْهِهِ ، فَإِذَا اغْتَمَّ ، كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ ، فَقَالَ : وَهُوَ كَذَلِكَ ، " لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ ، وَالنَّصَارَى ، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ ، يُحَذِّرُ مِثْلَ مَا صَنَعُوا " .
عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور عبداللہ بن سیدنا عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر اپنے منہ پر ڈالنا شروع کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھبراتے تو چادر کو منہ پر سے ہٹاتے اور فرماتے: ”یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو کہ انہوں نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو مسجد بنا لیا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ڈراتے تھے کہ کہیں اپنے لوگ بھی ایسا نہ کریں۔
صحیح مسلم حدیث ۱۱۸۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب ہوا تو آپ چادر اپنے چہرے پر ڈالتے، تکلیف محسوس ہوتی تو ہٹا دیتے، اور اسی حالت میں فرمایا کہ یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو مسجد بنا لیا۔ روایت کے آخر میں بتایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی جیسے کام سے ڈراتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قبروں کو مسجد بنانے کی حدیث صرف ایک عمومی بات نہیں، بلکہ امت کے لیے خاص تنبیہ ہے۔ آخری وقت میں بار بار اہم بات ہی کہی جاتی ہے، اور یہاں وہ بات قبر کو عبادت گاہ نہ بنانا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات کے قریب بھی امت کو قبروں کے معاملے سے خبردار کیا۔
- یہود و نصاریٰ کے عمل کو مثال بنا کر مسلمانوں کو اس سے بچایا گیا۔
- قبر کو مسجد بنانا ایسا عمل ہے جس سے صاف منع کیا گیا۔
- دین کی اہم نصیحت کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، خاص طور پر جب وہ آخری وقت میں بیان ہو۔
