صحیح مسلم حدیث ۱۱۸۸ - قبروں کو مسجد نہ بناؤ

قبروں کو مسجد نہ بناؤ: رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی صاف ممانعت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۱۸۸

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ ، قَالَ إِسْحَاق : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ النَّجْرَانِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جُنْدَبٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِخَمْسٍ ، وَهُوَ يَقُولُ : " إِنِّي أَبْرَأُ إِلَى اللَّهِ ، أَنْ يَكُونَ لِي مِنْكُمْ خَلِيلٌ ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى ، قَدِ اتَّخَذَنِي خَلِيلًا ، كَمَا اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ أُمَّتِي خَلِيلًا ، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا ، أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ ، أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ ، إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ " .

جندب بن عبداللہ روایت:

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وفات سے پانچ روز پہلے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”میں بیزار ہوں اس بات سے کہ کسی کو تم میں سے اپنا دوست بناؤں سوا اللہ کے کیونکہ اللہ نے مجھے دوست بنایا ہے جیسے ابراہیم علیہ السلام کو دوست بنایا تھا۔ اور جو میں اپنی امت میں سے کسی کو دوست بنانے والا ہوتا تو ابوبکر کو دوست بناتا۔ تم خبردار رہو تم سے پہلے لوگ اپنے پیغمبروں اور نیک لوگوں کی قبروں کو مسجد بنا لیتے تھے کہیں تم قبروں کو مسجد نہ بنانا میں تم کو اس بات سے منع کرتا ہوں۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۱۸۸ کا خلاصہ

یہ حدیث کئی اہم باتیں بتاتی ہے، مگر اس کا بڑا موضوع قبروں کو مسجد نہ بناؤ ہے۔ سیدنا جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات سے پانچ دن پہلے یہ فرماتے سنا کہ آپ اس بات سے بری ہیں کہ امت میں سے کسی کو اپنا خلیل بنائیں، کیونکہ اللہ نے آپ کو خلیل بنایا جیسے ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا تھا۔ پھر فرمایا کہ اگر امت میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا۔ اس کے بعد صاف ممانعت آئی کہ تم سے پہلے لوگ اپنے پیغمبروں اور نیک لوگوں کی قبروں کو مسجد بنا لیتے تھے، خبردار تم قبروں کو مسجد نہ بنانا، میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں۔ حدیث کا پیغام بہت واضح ہے: عبادت گاہ کو قبر سے الگ رکھا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کو اپنا خلیل بتایا۔
  • سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مقام اس روایت میں خاص طور پر ذکر ہوا۔
  • پچھلے لوگوں کا قبروں کو مسجد بنانا غلط عمل بتایا گیا۔
  • آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو صاف الفاظ میں قبروں کو مسجد بنانے سے منع کیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں