صحیح مسلم حدیث ۱۱۸۶ - یہود و نصاریٰ اور قبروں کی مسجدیں

یہود و نصاریٰ کی قبروں والی حدیث اور امت کے لیے تنبیہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۱۸۶

وحَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْفَزَارِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَصَمِّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى ، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لعنت کرے اللہ یہود اور نصاریٰ پر کہ انہوں نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو مسجد بنا لیا۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۱۸۶ کا خلاصہ

یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ یہود اور نصاریٰ پر لعنت کرے، انہوں نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو مسجد بنا لیا۔ اس حدیث میں قبروں کو مسجد بنانے کی ممانعت صاف الفاظ میں موجود ہے۔ یہ کوئی معمولی آداب کی بات نہیں، بلکہ عبادت کی سمت کو درست رکھنے کی بات ہے۔ جب قبر کو مسجد بنا دیا جائے تو لوگوں کے دلوں میں قبر اور عبادت کا تعلق بن سکتا ہے، اسی لیے حدیث میں اسے سخت انداز سے روکا گیا۔ یہاں نہ کسی قبر کی بے ادبی کا حکم ہے اور نہ نیک لوگوں کی قدر کم کرنا مقصود ہے، بلکہ عبادت کو اللہ کے لیے محفوظ رکھنا مقصود ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • یہود و نصاریٰ کے ایک غلط عمل سے مسلمانوں کو بچنے کی نصیحت کی گئی ہے۔
  • پیغمبروں کی قبروں کو مسجد بنانا حدیث میں سخت الفاظ کے ساتھ منع کیا گیا ہے۔
  • عبادت کا مرکز اللہ کی بندگی ہونی چاہیے، قبر نہیں۔
  • قبروں کے احترام اور ان کو مسجد بنانے میں فرق رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں