صحیح مسلم حدیث ۱۱۹۶ - رکوع میں گھٹنوں کا حکم

رکوع میں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنے کا حکم: پہلے اور بعد کا بیان

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۱۹۶

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : " رَكَعْتُ ، فَقُلْتُ : بِيَدَيَّ هَكَذَا ، يَعْنِي طَبَّقَ بِهِمَا ، وَوَضَعَهُمَا بَيْنَ فَخِذَيْهِ ، فَقَالَ أَبِي : قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا ، ثُمّ أُمِرْنَا بِالرُّكَبِ " .

مصعب بن سعد روایت:

میں نے رکوع کیا تو دونوں ہاتھوں کو ملا کر رانوں کے بیچ میں رکھ لیا۔ میرے باپ نے کہا: پہلے ہم ایسا کیا کرتے تھے۔ پھر ہم کو گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کا حکم ہوا۔

صحیح مسلم حدیث ۱۱۹۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں مصعب بن سعد بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رکوع کیا، دونوں ہاتھوں کو ملا کر رانوں کے بیچ رکھا۔ ان کے والد نے بتایا کہ ہم پہلے ایسا کیا کرتے تھے، پھر ہمیں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کا حکم ہوا۔ اس روایت میں بڑی سادہ مگر ضروری بات ہے: نماز کا طریقہ وہی مانا جائے گا جو حکم کے بعد مقرر ہوا۔ مین کی ورڈ رکوع میں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنے کی حدیث ہے۔ یہاں صحابی یہ نہیں کہتے کہ پرانا عمل کبھی ہوا ہی نہیں، بلکہ صاف بتاتے ہیں کہ پہلے کیا جاتا تھا، پھر حکم بدل گیا۔ اس سے حدیث کا متن خود سمجھاتا ہے کہ نماز کی ہیئت میں آخری ہدایت کو اختیار کیا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رکوع میں ہاتھ رانوں کے بیچ رکھنے کا پرانا عمل ذکر ہوا۔
  • بعد میں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنے کا حکم بیان کیا گیا۔
  • جب کسی عمل کے بارے میں نیا حکم مل جائے تو اسی پر عمل کیا جاتا ہے۔
  • صحابہ کرام نے نماز کے طریقے میں تبدیلی کو بھی محفوظ رکھا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں