صحیح مسلم حدیث ۱۱۹۸ - اقعاء کی بیٹھک سنت ہے
اقعاء کی بیٹھک کی حدیث: ابن عباسؓ کا صاف جواب
صحیح مسلم : ۱۱۹۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۱۹۸
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ ، قَالَا جَمِيعًا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا ، يَقُولُ : قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ : فِي الإِقْعَاءِ عَلَى الْقَدَمَيْنِ ، فَقَالَ : هِيَ السُّنَّةُ ، فَقُلْنَا لَهُ : إِنَّا لَنَرَاهُ جَفَاءً بِالرَّجُلِ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " بَلْ هِيَ سُنَّةُ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
طاؤس روایت:
ہم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: اقعاء کی بیٹھک میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: یہ سنت ہے۔ ہم تو اس بیٹھک کو آدمی پر (یا پاؤں پر) ستم سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا واہ وہ تو سنت ہے تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی۔
صحیح مسلم حدیث ۱۱۹۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع اقعاء کی بیٹھک ہے۔ طاؤس کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اقعاء کے بارے میں پوچھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ یہ سنت ہے۔ پوچھنے والوں نے کہا کہ ہمیں تو یہ بیٹھک آدمی کے لیے سخت یا نامناسب لگتی ہے۔ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے واضح فرمایا کہ نہیں، یہ تو تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ اس روایت میں ایک اہم بات سامنے آتی ہے کہ بعض دینی طریقے آدمی کو اپنی عادت کے خلاف لگ سکتے ہیں، مگر صحابی جب اسے سنت کہہ دیں تو اسے ذاتی اندازے سے رد نہیں کیا جاتا۔ حدیث میں صرف اقعاء کی بیٹھک کا ذکر ہے، اس لیے بات اسی حد تک رکھی گئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اقعاء کی بیٹھک کو سنت بتایا۔
- کسی عمل کو صرف اپنی رائے سے سخت یا نامناسب سمجھ کر رد نہیں کرنا چاہیے۔
- نماز کی بیٹھک کے طریقے صحابہ کرام سے سیکھے جاتے ہیں۔
- حدیث میں بیان شدہ بات کو اسی حد میں سمجھنا چاہیے جس حد تک متن میں آیا ہے۔
