صحیح مسلم حدیث ۱۲۷۴ - نماز میں بھول ہو تو یاد دلا دو

نماز میں بھول ہو جائے تو درست بات تلاش کریں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۲۷۴

وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، وَأَبُو بَكْرِ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَمِيعًا ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ ، زَادَ أَوْ نَقَصَ : فَلَمَّا سَلَّمَ ، قِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ ؟ قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالُوا : صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فَثَنَى رِجْلَيْهِ ، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ . فَقَالَ : " إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ ، أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ ، وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى ، كَمَا تَنْسَوْنَ ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي ، وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ ، فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ ، فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ ، ثُمَّ لِيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ " .

عبداللہ بن مسعود روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور نماز میں کچھ کمی بیشی ہوئی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! کیا نماز میں کوئی نیا حکم ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیا؟“ لوگوں نے کہا: آپ نے ایسا ایسا کیا۔یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پیروں کو موڑا اور قبلے کی طرف منہ کیا اور دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا اور ہماری طرف منہ کیا اور فرمایا: ”اگر نماز کے باب میں کوئی نیا حکم ہوتا تو میں تم کو بتلاتا بات اتنی ہے کہ میں بھی آدمی ہوں جیسے اور آدمی بھولتے ہیں میں بھی بھولتا ہوں۔ جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دو اور جب تم میں سے کوئی نماز میں شک کرے تو سوچ کر جو ٹھیک معلوم ہو اس پر نماز پوری کرے پھر دو سجدے کرے۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۲۷۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور اس میں کمی یا زیادتی ہوئی۔ لوگوں نے پوچھا کہ کیا نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم آیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ایسا ہوتا تو میں تمہیں بتاتا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ میں بھی انسان ہوں، جیسے تم بھولتے ہو میں بھی بھولتا ہوں، جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دو۔ پھر بتایا کہ جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہو تو جو درست معلوم ہو اسے تلاش کرے، اسی پر نماز پوری کرے، پھر دو سجدے کرے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع “نماز میں بھول”، “یاد دہانی” اور “سجدہ سہو” ہے۔ یہ روایت بہت عملی انداز میں نماز کی اصلاح سکھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز میں بھول ہو جائے تو یاد دلانا درست ہے۔
  • شک کی حالت میں درست بات تک پہنچنے کی کوشش کی جائے۔
  • نماز مکمل کر کے دو سجدے کرنے کی رہنمائی دی گئی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں