صحیح مسلم حدیث ۱۳۲۵ - قرض اور گناہ سے پناہ کی دعا
قرض سے پناہ کی دعا: جھوٹ اور وعدہ خلافی سے بچنے کا سبق
صحیح مسلم : ۱۳۲۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۲۵
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ " ، قَالَتْ : فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ : مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنَ الْمَغْرَمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ ، حَدَّثَ ، فَكَذَبَ ، وَوَعَدَ ، فَأَخْلَفَ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا مانگتے: «اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ» ”یا اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں تیری قبر کے عذاب سے اور میں پناہ مانگتا ہوں تیری دجال کے فتنہ سے اور پناہ مانگتا ہوں میں تیری زندگی اور موت کے فتنہ سے، یا اللہ! پناہ مانگتا ہوں میں تیری گناہ اور قرضداری سے“، ایک شخص بولا: یا رسول اللہ! آپ اکثر قرض داری سے کیوں پناہ مانگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی قرض دار ہوتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ خلافی کرتا ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۳۲۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کئی چیزوں سے پناہ مانگتے تھے: عذاب قبر، فتنہ مسیح دجال، زندگی اور موت کے فتنے، گناہ اور قرض داری۔ ایک شخص نے پوچھا کہ آپ قرض داری سے اتنی زیادہ پناہ کیوں مانگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب آدمی قرض دار ہوتا ہے تو بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے تو خلاف ورزی کرتا ہے۔ اس حدیث کا اصل سبق یہ ہے کہ قرض صرف مالی بوجھ نہیں، بعض اوقات اخلاقی کمزوریوں کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ قرض سے پناہ کی دعا، گناہ سے پناہ، اور نماز میں دعا اس روایت کے اہم الفاظ ہیں۔ حدیث ہمیں محتاط، سچا اور وعدے کا پابند رہنے کی طرف بلاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں گناہ اور قرض سے پناہ مانگنا نبوی دعا میں آیا ہے۔
- قرض داری انسان کو جھوٹ اور وعدہ خلافی کی طرف لے جا سکتی ہے۔
- مالی معاملات میں سچائی اور وعدے کی پابندی ضروری ہے۔
- بڑے دینی اور اخلاقی خطرات سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
