صحیح مسلم حدیث ۱۳۳۶ - یا ذا الجلال والاکرام کا ذکر
یا ذا الجلال والاکرام: نماز کے بعد دعا کے الفاظ
صحیح مسلم : ۱۳۳۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۳۶
وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الأَحْمَرَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ : يَا ذَا الْجَلَالِ وَالإِكْرَامِ .
اس سند سے بھی مذکورہ الفاظ آئے ہیں۔
صحیح مسلم حدیث ۱۳۳۶ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے الفاظ کو ایک اور سند سے بیان کرتی ہے۔ اس میں بھی نماز کے بعد والی دعا کا ذکر ہے، مگر الفاظ میں «يَا ذَا الْجَلَالِ وَالإِكْرَامِ» آیا ہے۔ حدیث کا اصل مضمون یہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے سلام کے بعد اللہ کی سلامتی، برکت، جلال اور اکرام کا ذکر کرتے تھے۔ یہاں کوئی نیا حکم الگ سے بیان نہیں ہوا، بلکہ اسی دعا کے الفاظ دوسری روایت سے نقل ہوئے ہیں۔ اس سے ہمیں دو باتیں سمجھ آتی ہیں: بعد نماز ذکر کی اہمیت، اور حدیث کے الفاظ کو احتیاط سے محفوظ کرنے کا طریقہ۔ اللهم أنت السلام، یا ذا الجلال والاکرام، اور نماز کے بعد دعا اس روایت کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کے بعد اللهم أنت السلام والی دعا دوسری سند سے بھی آئی ہے۔
- یا ذا الجلال والاکرام کے الفاظ روایت میں نقل ہوئے ہیں۔
- حدیث کے الفاظ کو احتیاط سے بیان کیا گیا۔
- سلام کے بعد اللہ کا ذکر نبوی عمل میں شامل ہے۔
