صحیح مسلم حدیث ۱۳۴ - لا الہ الا اللہ کی دعوت اور ہدایت
اپنے چچا کو کلمہ توحید کی آخری دعوت
صحیح مسلم : ۱۳۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّهِ عِنْدَ الْمَوْتِ : " قُلْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، أَشْهَدُ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَبَى " ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ سورة القصص آية 56 الآيَةَ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا سے مرتے وقت کہا: ”تم «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» کہو میں قیامت کے دن تمہارے لیے اس کا گواہ ہوں گا۔“ انہوں نے انکار کیا تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت «إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ» اتاری اخیر تک۔
صحیح مسلم حدیث ۱۳۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے چچا سے آخری وقت میں کہنا نقل ہوا ہے کہ لا الہ الا اللہ کہہ دو، میں قیامت کے دن تمہارے لیے اس کی گواہی دوں گا۔ لیکن انہوں نے انکار کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی: آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے۔ اس حدیث کا پیغام بہت واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قریبی عزیز کو بھی توحید کی دعوت دی، مگر ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ انسان کا کام خیر کی دعوت دینا، نصیحت کرنا اور سچی بات پہنچانا ہے۔ کسی کے دل کو ایمان پر جما دینا بندے کے اختیار میں نہیں۔ اس لیے توحید کی دعوت کے ساتھ اللہ سے ہدایت مانگنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قریبی رشتہ داروں کو بھی توحید کی دعوت دینی چاہیے۔
- لا الہ الا اللہ کا اقرار بہت بڑی بات ہے۔
- ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
- نصیحت کرنا انسان کا کام ہے، دل بدلنا اللہ کا کام ہے۔
