صحیح مسلم حدیث ۱۳۴۰ - بعد نماز ذکر کے الفاظ کا فرق
بعد نماز ذکر کے الفاظ: روایت میں لفظی فرق کی وضاحت
صحیح مسلم : ۱۳۴۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۴۰
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ ، أَنَّ وَرَّادًا مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : كَتَبَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ إِلَى مُعَاوِيَةَ ، كَتَبَ ذَلِكَ الْكِتَابَ لَهُ وَرَّادٌ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ حِينَ سَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا ، إِلَّا قَوْلَهُ : وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ .
عبدہ بن ابولبابہ روایت:
سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے وراد کے ہاتھ سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھوا بھیجا کہ میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ فرماتے تھے جب سلام پھیرتے نماز سے، مثل ابوبکر اور ابوکریب کی روایت کے مگر اس میں «وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ» کو ذکر نہیں کیا۔
صحیح مسلم حدیث ۱۳۴۰ کا خلاصہ
اس روایت میں عبدہ بن ابی لبابہ کے ذریعے وراد رحمہ اللہ کا بیان نقل ہوا کہ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے ان کے ہاتھ سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھوایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز سے سلام پھیرتے وقت یہ ذکر کہتے سنا۔ روایت میں بتایا گیا کہ یہ ابوبکر اور ابوکریب کی روایت کے مثل ہے، مگر اس میں «وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ» کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اس حدیث کا خاص سبق یہ ہے کہ حدیث کے الفاظ نقل کرتے وقت جو لفظ آیا یا نہیں آیا، اسے صاف بیان کیا گیا۔ اصل ذکر پھر بھی اللہ کی توحید، اس کی عطا، اس کی منع، اور بندے کی عاجزی سے متعلق ہے۔ بعد نماز ذکر، لا مانع لما أعطيت، اور روایت کے الفاظ کا فرق اس حدیث کے اہم موضوعات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث کے الفاظ میں فرق ہو تو اسے صاف طور پر بیان کیا جاتا ہے۔
- بعد نماز ذکر میں اللہ کی توحید اور اختیار کا اقرار ہے۔
- راویوں نے یہ بھی بتایا کہ کون سا جملہ اس روایت میں نہیں آیا۔
- دینی بات نقل کرتے ہوئے احتیاط اور امانت ضروری ہے۔
