صحیح مسلم حدیث ۱۳۴۳ - ہر نماز کے بعد تہلیل
ہر نماز کے بعد تہلیل اور اخلاص کی دعا
صحیح مسلم : ۱۳۴۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۴۳
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ، حِينَ يُسَلِّمُ " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ ، لَهُ النِّعْمَةُ ، وَلَهُ الْفَضْلُ ، وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ " ، وَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُهَلِّلُ بِهِنَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ .
ابوالزبیر روایت:
سیدنا ابن الزبیر رضی اللہ عنہ ہمیشہ ہر نماز کے بعد سلام پھیرتے وقت پڑھتے «لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَلاَ نَعْبُدُ إِلاَّ إِيَّاهُ لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ» ”کوئی معبود لائق عبادت کے نہیں، نہ اس کا کوئی شریک ہے، اسی کی ہے سلطنت اور اسی کے لئے ہے سب تعریف اور وہ سب کچھ کر سکتا ہے اور نہ گناہ سے بچنے کی طاقت، نہ عبادت کرنے کی قوت ہے مگر ساتھ اللہ کے، نہیں کوئی معبود لائق عبادت کے سوائے اللہ کے اور نہیں پوجتے ہم مگر اسی کو، اس کا ہے سب احسان اور اسی کو سب بزرگی اور اسی کے لئے سب تعریف اچھی، نہیں ہے کوئی معبود عبادت کے لائق مگر اللہ، ہم صرف اسی کی عبادت کرنے والے ہیں اگرچہ کافر برا مانیں۔“ اور کہا: راوی سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد یہی پڑھا کرتے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۳۴۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا معمول بیان ہوا ہے کہ وہ ہر نماز کے بعد سلام پھیرتے وقت یہ کلمات پڑھتے تھے: لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وہو علی کل شیء قدیر۔ پھر لا حول ولا قوۃ الا باللہ، اور یہ اقرار کہ ہم صرف اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں، اسی کی نعمت ہے، اسی کا فضل ہے، اور اسی کے لیے اچھی تعریف ہے۔ آخر میں دین کو اللہ کے لیے خالص کرنے کا ذکر ہے، اگرچہ کافر اسے برا سمجھیں۔ اس حدیث میں نماز کے بعد اذکار، تہلیل بعد نماز، اور اخلاص فی الدین کا صاف پیغام ہے۔ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد یہی کلمات پڑھا کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے بعد زبان کو توحید، حمد اور اللہ کی بندگی کے اقرار سے تر رکھنا پسندیدہ عمل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر نماز کے بعد اللہ کی وحدانیت کا اقرار کیا جائے۔
- بندہ عبادت کو صرف اللہ کے لیے خالص رکھے۔
- نعمت، فضل اور اچھی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔
