صحیح مسلم حدیث ۱۳۴۵ - سلام کے بعد ذکر کی تعلیم
سلام پھیرنے کے بعد ذکر پڑھنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۱۳۴۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۴۵
وحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يَخْطُبُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ ، وَهُوَ يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِذَا سَلَّمَ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ ، أَوِ الصَّلَوَاتِ ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ .
ابوالزبیر روایت:
میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ خطبہ پڑھتے تھے اس منبر پر اور کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو ہر نماز کے آخر میں کہتے اور پھر ہشام بن عروہ کی روایت کے مانند حدیث بیان کی۔
صحیح مسلم حدیث ۱۳۴۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوالزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا۔ وہ بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو نماز کے آخر میں وہی کلمات کہتے جن کا ذکر پچھلی روایت میں آیا ہے۔ اس روایت کی خاص بات یہ ہے کہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے اس عمل کو لوگوں کے سامنے خطبہ میں بیان کیا، تاکہ نماز کے بعد اذکار کی تعلیم عام ہو۔ عام فہم انداز میں اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز کے ختم ہوتے ہی اللہ کی توحید، حمد، نعمت، فضل اور اخلاص کے کلمات پڑھنا ایک ثابت شدہ عمل ہے۔ دعا بعد نماز، تہلیل بعد نماز، اور اذکار نماز جیسے سرچ الفاظ اسی مضمون سے متعلق ہیں۔ اس روایت میں نئے الفاظ نہیں، بلکہ پہلے بیان شدہ دعا کی تائید ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی عمل کو لوگوں تک امانت کے ساتھ پہنچانا صحابہ کا طریقہ تھا۔
- سلام کے بعد ذکر پڑھنے کا عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل ہوا۔
- نماز کے بعد توحید اور حمد کے کلمات پڑھنے کی ترغیب ملتی ہے۔
