صحیح مسلم حدیث ۱۳۵۰ - نماز کے بعد تسبیحات کا مسنون طریقہ
نماز کے بعد تسبیح، تحمید اور تکبیر کا طریقہ
صحیح مسلم : ۱۳۵۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۵۰
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْد الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مُعَقِّبَاتٌ ، لَا يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ أَوْ فَاعِلُهُنَّ ، ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَسْبِيحَةً وَثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَحْمِيدَةً ، وَأَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ تَكْبِيرَةً ، فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ " .
کعب بن عجرہ روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چند تسبیحات ہیں جن کا کہنے والا یا کرنے والا نقصان نہیں اٹھائے گا، وہ یہ ہیں کہ ہر نماز کے بعد تینتیس ۳۳ مرتبہ سبحان اللہ اور تینتیس ۳۳ مرتبہ الحمدللہ اور چونتیس ۳۴ مرتبہ اللہ اکبر۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۳۵۰ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ چند تسبیحات ہیں جن کا کہنے والا یا کرنے والا نقصان نہیں اٹھائے گا۔ وہ یہ ہیں کہ ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ، اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہا جائے۔ یہ حدیث پچھلی روایت کے مضمون کی تائید کرتی ہے، مگر اس کے الفاظ میں ہر نماز کے بعد کا ذکر صاف طور پر آیا ہے۔ عام آدمی کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز ختم ہونے کے بعد چند منٹ اللہ کے ذکر میں لگانا بہت اچھا معمول ہے۔ نماز کے بعد تسبیح، 33 33 34 اذکار، اور فرض نماز کے بعد مسنون ذکر جیسے الفاظ اسی حدیث سے متعلق ہیں۔ یہاں کوئی لمبی دعا نہیں، بلکہ تین آسان کلمات ہیں جو زبان پر ہلکے مگر معنی میں بھرپور ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر نماز کے بعد تین معروف کلمات پڑھنے کی تعلیم دی گئی۔
- ذکر کا یہ عمل مختصر ہے مگر مسلسل کیا جا سکتا ہے۔
- نماز کے بعد فوراً اللہ کی پاکی، تعریف اور بڑائی بیان کرنا اچھا ہے۔
